بھارت ،ہندوتوا لیڈر نے امدادی مہم کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی تقریب میں تبدیل کردیا

پیر 11 مئی 2026 13:32

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 مئی2026ء) بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم” ہندو رکشا دل“ کے سربراہ بھوپیندر تومر عرف پنکی چودھری نے غازی آباد میں خوراک تقسیم کرنے کی مہم کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی تقریب میں تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمانوں کو امداد نہیں دی جائے گی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پنکی چوہدری قطارمیں کھڑے ایک غریب مسلمان سے کھانے کی پلیٹ چھین رہاہے اور کہہ رہا ہے ہم ملاوئوں کو کھانا نہیں دیں گے، چاہے کسی کو برا لگے، کوئی مسلمان یہاں کھانا نہ کھائے۔

انہوں نے مسلمانوں کو کھانا لینے سے روکتے ہوئے کہاکہ یہاںملا نہ آئیں، صرف ہندو آئیں۔ پنکی چودھری اگست 2021 میں جنتر منتر پر نفرت انگیز تقریر کیس میں ایک اہم ملزم ہے اورمسلم مخالف بیان بازی کا اس کاایک طویل ریکارڈ ہے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل اس نے مسلمانوں کو جہادی قرار دیتے ہوئے ہندوو ¿ں پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کو ہندو اکثریتی علاقوں میں جائیداد خریدنے سے روکیں اوریہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ صرف ہندو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

فروری 2026 میں اس کی تنظیم نے اتر پردیش کی ایک شاہراہ پر”مسلمانوں کے لیے نہیں“ لکھ دیا۔ اگست 2024 میں اس نے ایک ہجوم کی قیادت کی جس نے غازی آباد میں ایک مسلمان بستی میں گھروں کو نذر آتش کردیا۔ پنکی چودھری کے خلاف 38 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ہندو رکشا دل کے ارکان پر تلواریں تقسیم کرنے، مسلم مخالف نعرے لگانے اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ تنظیم کے اقدامات اور نرم سرکاری رویے سے حکومت کا تعصب عیاں ہوتاہے ۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائیوں اور ہندو انتہاپسندوں کے لیے استثنیٰ کے خاتمے کے مطالبات دہرائے ۔