مودی کی بی جے پی پر بھارتی ریاست میں ہندوتوا نظریہ کی چھاپ، مغربی بنگال انتخابات میں دھاندلی کے الزامات

پیر 11 مئی 2026 22:31

کولکتہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 مئی2026ء) بھارت میں بی جے پی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقتدار کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، کیونکہ مغربی بنگال کے انتخابات میں مبینہ طور پر منظم دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی جریدہ دی وائر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ افراد کو ووٹر لسٹ سے خارج کر کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا، جبکہ 27 لاکھ شہریوں کو تضادات کی بنیاد پر نکالا گیا اور حتمی فہرست میں 6 لاکھ ووٹروں کے اضافے نے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی اور ان کی پارٹی کے اقدامات نہ صرف اقتدار کو مضبوط بنانے کی کوشش ہیں بلکہ ہندوتوا نظریہ کے فروغ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کو بھی بڑھا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے متنازعہ بیانات میں مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی خواہش بھی شامل ہے۔ بی جے پی کے دیگر وزرائے اعلیٰ، یوگی آدتیہ ناتھ اور ہمانتا بسوا سرما، بھی ہر موقع پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق، مودی کی جانب سے مبینہ انتخابی دھاندلی اور ووٹروں کے حق میں مداخلت نے بھارت کی جمہوریت کے اصولوں پر سنگین دھبہ لگایا ہے اور ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک میں شفاف انتخابات کے عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس رپورٹ نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔