مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں دل کی باتیں کرنا چاہتی ہوں، مریم نواز

میری ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں لیکن میں کبھی بھی ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی تھی، اُن کے کہنے پر میں میڈیکل میں چلی تو گئی لیکن ایک سال بعد انہوں نے کہا جو کرنا ہے کرو، پھر میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا؛ لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں خطاب

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 مئی 2026 12:23

مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں دل کی باتیں کرنا چاہتی ہوں، ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2026ء) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں دل کی باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں 21ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت پرانی بات لگتی ہے، 1989ء میں یہاں سے میں ایف ایس سی کر رہی تھی، میری والدہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں، لیکن میں کبھی ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی تھی، اُن کے کہنے پر میں میڈیکل میں چلی تو گئی لیکن ایک سال بعد انہوں نے کہا جو کرنا ہے کرو، پھر میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ ایسی جماعت سے تعلق رکھتی ہوں جہاں چند سال پہلے تک خواتین اگلی صفوں میں موجود نہیں ہوتی تھیں، مجھے لکھی ہوئی تقریر کرنے کا شوق نہیں، میں آپ سے دل کی باتیں کرنا چاہتی ہیں، میں خواتین کی طاقت پر یقین رکھتی ہوں، میں پاکستان کی بیٹیوں پر یقین رکھتی ہوں، مردوں سے مقابلہ کر کے جیت آنا کوئی معمولی بات نہیں، جب ہماری باصلاحیت خواتین ہر شعبے میں یوں ہی اپنا فعال کردار ادا کریں گی، تو پاکستان کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میری ذات کو چھوڑ دیں، لیکن کیا یہ خواتین کے لیے فخر کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا تعلق لاہور کالج ویمن یونیورسٹی سے ہے، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ 30،32 سال قبل کالج کے جس ہال میں میرا مذاق اڑایا گیا تھا وہاں بطور وزیراعلیٰ خطاب کروں گی،ن لیگ مردوں کی سیاسی جماعت تھی، لیکن میں نے جگہ بنائی، مردوں میں اپنی جگہ بنانا، مردوں کا مقابلہ کر کے آنا اور پھر مردوں سے جیت کر آنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ میں آن لائن ہراسمنٹ پر پورا سسٹم بنا رہی ہوں، اس کو میں بہت جلد لانچ کرنے جارہی ہوں، ماں باپ بچوں کی حفاظت کے لیے پابندیاں لگاتے ہیں، میں ماں باپ کو کہتی ہوں کہ جب کوئی بچی آپ کے پاس ہراسمنٹ کی شکایت لے کر آئے تو آپ اُس کا ساتھ دیں۔