حج 2026: ایک لاکھ 79ہزار پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے لاکھوں عازمین کے لیے سعودی عرب کا جدید ترین" ٹرانسپورٹ پلان" تیار

منگل 12 مئی 2026 15:07

مکہ مکرمہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 مئی2026ء) حج محض ایک عبادت نہیں، بلکہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی اجتماع ہے جہاں ایک محدود وقت اور مخصوص جغرافیائی حدود میں لاکھوں افراد کی نقل و حرکت ایک بڑا انتظامی امتحان ہوتی ہے۔ سال 1447 ہجری کے حج سیزن کے لیے سعودی عرب کے 'جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر' (جی سی ٹی) نے ایک ایسا مربوط اور جدید ٹرانسپورٹیشن ماڈل تیار کیا ہے جو ٹیکنالوجی اور انسانی انتظام کا بہترین شاہکار نظر آتا ہے۔

اس سال مجموعی طور پر ساڑھے سولہ لاکھ عازمینِ حج اس مربوط نظام سے مستفید ہو رہے ہیں، جن میں *ایک لاکھ 79 ہزار پاکستانی عازمینِ حج بھی شامل ہیں، جن کی سہولت اور محفوظ سفر کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر اس پورے مشن کی قیادت کر رہا ہے، جس نے تمام ٹرانسپورٹ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ (منیٰ، عرفات، مزدلفہ) میں ٹریفک کی روانی کو ایک مرکزی کنٹرول روم سے مانیٹر کیا جا رہا ہے جو ریئل ٹائم ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔

جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، اس بار "اسمارٹ ایسکلیشن" ایپ کا استعمال کیا گیا ہے جس نے نہ صرف لاکھوں عازمین کی 40 ہزار سے زائد بس ٹرپس کو منظم کیا، بلکہ غیر قانونی طور پر حج کرنے والوں کی راہ روکنے میں 95 فیصد تک کامیابی حاصل کی، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان سمیت تمام ممالک کے قانونی عازمین کو رش میں کمی کی صورت میں مل رہا ہے۔

حجاج کی سہولت کے لیے مکہ مکرمہ کے ٹرانسپورٹ حبس کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شعب عامر، باب علی اور جرول جیسے بڑے سٹیشنوں کی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ان اسٹیشنوں پر پیدل چلنے والوں اور بسوں کے راستوں کو مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے تاکہ حادثات کا خدشہ کم ہو اور پاکستانی عازمینِ حج، جو کہ بڑی تعداد میں ان اسٹیشنوں کو استعمال کرتے ہیں، آرام کے ساتھ مسجد الحرام تک پہنچ سکیں۔

اس کے علاوہ ایامِ تشریق کے دوران منیٰ اور حرم کے درمیان پانچ اسٹریٹجک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں سایہ دار راستے اور سمت بتانے والے بورڈز حجاج کی رہنمائی کے لیے نصب ہیں۔سفر کے تمام مراحل، بشمول عرفات روانگی اور وہاں سے مزدلفہ واپسی کو بسوں اور مشاعر ٹرین کے درمیان نہایت توازن کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے۔ جنرل آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے زیرِ نگرانی 15 ہزار سے زائد بسوں کے بیڑے میں سے بہترین بسیں فیلڈ آپریشنز کے لیے مختص کی گئی ہیں، جو پاکستانی حجاج کے مختلف مکاتب اور رہائش گاہوں سے ان کی منتقلی کو یقینی بنا رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ "Ask Me" (مجھ سے پوچھیں) اقدام کے تحت تربیت یافتہ عملہ جمرات اور مسجد الحرام کے گرد و نواح میں تعینات ہے، جو زبان کی کسی بھی مشکل کے باوجود پاکستانی عازمین کو ہنگامی حالات میں فوری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔حج 1447ھ کا ٹرانسپورٹ پلان محض گاڑیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سائنسی نظام ہے جہاں ڈیٹا کی بنیاد پر ہر سیکنڈ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

سعودی حکومت کا یہ مربوط ماڈل جہاں دنیا بھر کے لیے "ماس ٹرانزٹ مینجمنٹ" کی ایک مثال ہے، وہی یہ ایک لاکھ 79 ہزار پاکستانی عازمینِ حج سمیت تمام ضیوف الرحمٰن کے سفر کو سہل، محفوظ اور پرسکون بنانے کی ضمانت بھی ہے۔ اس مربوط نظام کی بدولت لاکھوں حجاج اب زیادہ توجہ کے ساتھ اپنے مناسک کی ادائیگی پر توجہ مرکوز کر پا رہے ہیں۔\395