ایس ای سی پی نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لئے میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری آسان بنا دی

جمعرات 14 مئی 2026 17:45

ایس ای سی پی نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لئے میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لئے میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کو مزید آسان بناتے ہوئے ایسٹ مینجمنٹ کمپنی میں ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ کم رسک والے میوچل فنڈ اکاؤنٹس کی سرمایہ کاری کی حد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری کے لئے سہل اکاؤنٹس کی سرمایہ کاری حد 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے جبکہ سہولت اکاؤنٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے ریگولیٹری فریم ورک میں ترمیم کا سرکلر جاری کر دیا گیا ہے۔ملک میں جدید بائیومیٹرک تصدیق اور لائیولینس چیک سسٹمز کی دستیابی کے بعد آن لائن اکاؤنٹ کھولنے کے لئے تصدیقی عمل کے طریق کار کو بھی اسان بنا دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

نئے فریم ورک کے تحت ایسے سرمایہ کار جو کہ پہلے سے بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز سمیت ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں میں اکاؤنٹس رکھتے ہیں، انہیں اب ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں سہل اور سہولت اکاؤنٹس کھولنے کے لئے کے وائی سی کے تصدیقی عمل سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا۔ چونکہ ان صارفین کی تصدیق پہلے ہی متعلقہ مالیاتی ادارے کر چکے ہوتے ہیں، اس لئے دوبارہ تصدیق اور کے وائی سی کے دستاویزات جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ چھوٹے اکائونٹ کے ذریعے سالانہ سرمایہ کاری کی سابقہ حد بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے اور اکائونٹ سے واپس رقوم نکالنے میں زیادہ سہولت حاصل ہو گی۔یہ اصلاحات پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو عام عوام کے لئے آسان اور قابل رسائی بنانے کے لئے ایس ای سی پی کی وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہیں ۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 25 لاکھ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے،ان اقدامات کا مقصد ریگولیٹڈ مالیاتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو آسان بنانا ہے تاکہ کہ زیادہ سے زیادہ لوگ پاکستان کی کپیٹل مارکیٹ میں شامل ہو کر پاکستان کی معاشی ترقی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔