ملکی اشرافیہ کیلئے آئین و قانون موم کی ناک بن چکا ہے،طارق مدنی

سپریم کورٹ کی توہین کے 3سال مکمل، توہین عدالت کے مرتکب کو کوئی پوچھنے والا نہیں،سربراہ پاکستان امن کونسل

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) پاکستان امن کونسل کے سربراہ طارق محمود مدنی نے سپریم کورٹ کے پنجاب اور کے پی میں 14مئی 2023 کو الیکشن کرانے کے حکم کی توہین کے 3سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ ملک کی اشرافیہ کے لیے ملکی آئین و قانون موم کی ناک بن چکا ہے جسے یہ جب چاہیں اور جس طرح چاہیں موڑ لیتے ہیں جس کی واضح دلیل 3سال قبل ملکی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں 14مئی کو الیکشن کرانے کے حکم کو روندنے کی ہے اور حد یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے والے توہین عدالت کے مرتکب اشرافیہ کو کوئی پوچھنے والا تک نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی امن سیکریٹریٹ میں سیاسی، سماجی و مذہبی رہنماں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا طارق مدنی نے کہا کہ پنجاب اور کے پی میں الیکشن سے متعلق کیس میں سابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے قرآن کی آیت سے ابتدائی فیصلہ سنانے کا آغاز کیا تھا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 8اکتوبر کو انتخابات کرانے کا حکم غیر آئینی قرار دیکر فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پنجاب میں انتخابات شفاف، غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق کرائے جائیں، وفاقی حکومت 10اپریل تک الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپیکا فنڈ جاری کرے، الیکشن کمیشن 11اپریل کو سپریم کورٹ میں فنڈ مہیا کرنے کی رپورٹ جمع کرائے، الیکشن کمیشن فنڈ کی رپورٹ بینچ ممبران کو چیمبر میں جمع کرائے۔