دوسری روس۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس کا کامیاب انعقاد

جمعرات 14 مئی 2026 22:26

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2026ء) دوسری روس۔پاکستان بین الاقوامی کانفرنس بعنوان تبدیل ہوتے عالمی نظام میں روس۔پاکستان تعلقات کا ارتقا کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں روسی فیڈریشن اور پاکستان کے ممتاز سفارت کاروں، اسکالرز، محققین، پالیسی سازوں اور ادارہ جاتی نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان علمی مکالمے، سائنسی تعاون اور تزویراتی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ کانفرنس روسی فیڈریشن کے شہر قازان میں منعقد ہوئی، جو عالمی شہرت یافتہ روس۔اسلامک ورلڈ قازان فورم 2026 کا حصہ تھی۔کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے عوامی امور رانا مبشر اقبال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ طلحہ برکی، جنہیں وزیرِ مملکت کا درجہ حاصل ہے، بطور مہمانِ اعزاز شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں طلحہ برکی نے پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تعلیم، تحقیق، تجارت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور روس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، روس کو عالمی امن، علاقائی استحکام اور کثیر القطبی عالمی نظام کے فروغ میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صدر ولادیمیر پیوٹن کے نارتھ۔ساتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور وژن کا حصہ بننے کا خواہاں ہے، جس کے لیے انٹرنیشنل نارتھ۔

ساتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کو گوادر پورٹ سے منسلک کیا جا سکتا ہے، جو علاقائی روابط اور اقتصادی انضمام کو مزید فروغ دے گا۔شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے قازان فیڈرل یونیورسٹی کے وائس ریکٹر برائے تحقیق دمتری البرٹو وچ تایورسکی نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو سراہا اور موجودہ بین الاقوامی ماحول میں علمی سفارت کاری کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی، جدت، تحقیق اور اعلی تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کے کردار کو بھی سراہا، جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان علمی اور سفارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔کانفرنس سے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے منتظمین کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں مستقبل میں پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گی۔روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی اور پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خوروف نے شرکا سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغامات کے ذریعے خطاب کیا۔ سفیر البرٹ خوروف نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستانی اسکالرز اور محققین کی فعال شرکت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے علمی فورمز تعلیم، جدت، تحقیق اور ثقافتی ہم آہنگی کے شعبوں میں طویل المدتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔دونوں سفیروں نے تعلیم، ادارہ جاتی تعاون، سائنسی روابط اور عوامی سطح پر روابط کے ذریعے پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کے روشن اور مثبت مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا۔

کامسٹیک کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کو محض وقتی تعاون سے نکال کر باہمی اعتماد، سائنسی اشتراک اور علمی تبادلے پر مبنی طویل المدتی تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔کانفرنس فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ کانفرنس دونوں ممالک کے ماہرینِ تعلیم، محققین اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے علمی تبادلوں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، علاقائی فہم اور علمی سفارت کاری کے فروغ میں مسلسل تعلیمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔پلینری اجلاس کے دوران روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کی سینئر ریسرچ فیلو نتالیہ الیکسیونا زامارائیوا نے ابھرتے ہوئے کثیر القطبی عالمی نظام میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی پریزنٹیشن دی اور عالمی و علاقائی سیاست میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر دونوں ممالک کے شرکا نے پاکستان اور روس کے درمیان علمی تعاون، سائنسی تبادلوں، ادارہ جاتی شراکت داری اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔یہ کانفرنس مشترکہ طور پر قازان فیڈرل یونیورسٹی، روسی فیڈریشن اور وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جبکہ کنسورشیم فار ایشیا پیسفک اینڈ یوریشین اسٹڈیز اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اس کے شراکت دار ادارے تھے۔