انمول پنکی کے 3 قریبی ساتھیوں اور نیٹ ورک کی مزید تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

نیٹ ورک اداروں کے افسران کی سرپرستی میں چلتا تھا، افسران کو 1 کروڑ روپے سے زائد رشوت دی، کراچی کے تھانوں کو ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ دیا جاتا تھا

muhammad ali محمد علی جمعرات 14 مئی 2026 20:25

انمول پنکی کے 3 قریبی ساتھیوں اور نیٹ ورک کی مزید تہلکہ خیز تفصیلات ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2026ء) انمول پنکی کے 3 قریبی ساتھیوں اور نیٹ ورک کی مزید تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں، نیٹ ورک اداروں کے افسران کی سرپرستی میں چلتا تھا، افسران کو 1 کروڑ روپے سے زائد رشوت دی، کراچی کے تھانوں کو ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ دیا جاتا تھا۔ کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ اس کا نیٹ ورک اداروں کے افسران کی سرپرستی میں چل رہا تھا، مختلف اداروں کے افسران کو مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رشوت دی تاکہ اس کا بھائی اور نیٹ ورک محفوظ رہے۔

کراچی کے درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن پولیس کو ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ ادا کرتی تھی۔

(جاری ہے)

دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ناصر، صابراں اور عین اللہ نامی افراد انمول پنکی کے سب سے قریبی ساتھی تھے۔ جبکہ سابق شوہر منشیات چھپانے کے لیے وکلاء کے دفاتر اور چیمبرز کا استعمال کرتا تھا ۔ سابق شوہر رانا ناصر کے وکلاء بھائیوں کے چیمبرز کو منشیات چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

رانا ناصر کے دونوں بھائی رانا منصور اور رانا شہزور وکیل ہیں اور کراچی میں منشیات کے بڑے ڈیلر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منشیات کی بدنام زمانہ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف جاری تفتیش میں مزید ایسے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے سکیورٹی اداروں کو بھی دنگ کر دیا، ملزمہ کا نیٹ ورک کسی عام گروہ کے بجائے ایک جدید سکیورٹی ایجنسی کی طرز پر کام کر رہا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنکی نیٹ ورک کے کارندے ایسے موبائل فونز استعمال کرتے تھے جن میں کوئی سم کارڈ نہیں ہوتا تھا تاکہ کال ٹریس نہ ہو سکے، تمام تر رابطے وائی فائی کے ذریعے ایپس پر کیے جاتے تھے تاکہ لوکیشن اور کال ریکارڈ کا خطرہ صفر رہے، ملزمہ اس پولیس افسر کا تمام ذاتی ڈیٹا اور نجی معلومات نکال لیتی تھی جو اس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرتا، وہ افسران کو ان کی نجی زندگی کی معلومات بھیج کر انہیں شرمندہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی ماہر تھی۔

بتایا گیا ہے کہ رائیڈر اور خریدار ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے، رائیڈر کا رابطہ صرف انمول سے ہوتا تھا، رائیڈر منشیات کسی ویران جگہ چھپا کر اس کی تصویر اور لائیو لوکیشن انمول کو بھیجتا، جو آگے خریدار کو فراہم کر دی جاتی تھیں، منشیات کی وصولی کے وقت موقع پر کوئی بھی موجود نہیں ہوتا تھا، جس سے گرفتاری کا امکان ختم ہو جاتا تھا، اگر کوئی کارندہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا تو نیٹ ورک اس سے مکمل ناتا توڑ لیتا تھا، پکڑے گئے شخص کو کبھی دوبارہ نیٹ ورک کا حصہ نہیں بنایا جاتا تھا، جس کی وجہ سے پولیس کے لیے نیٹ ورک کی اگلی کڑی تک پہنچنا ناممکن ہو جاتا تھا۔