اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مئی 2026ء) امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی لبنان جنگ میں اس وقت ایک ماہ کی جو فائر بندی جاری ہے، اس کا آغاز 17 اپریل کو ہوا تھا۔
اس فائر بندی کی مدت عالمی وقت کے مطابق 17 مئی یعنی آئندہ اتوار کی رات پوری ہو جائے گی، لیکن جنگی فریقین کے مابین ابھی تک یہ طے نہیں پا سکا کہ اس سیزفائر کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا۔
لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملے میں ایک بچی سمیت سات افراد ہلاک
یہ اسی تناظر میں ہو رہا ہے کہ فائر بندی کے چند روز بعد خاتمے سے قبل ہی جمعرات 14 مئی کو امریکی دارالحکومت میں مشرق وسطیٰ کی ان دونوں ریاستوں کے اعلیٰ سفارت کاروں کے مابین امریکی ثالثی میں نئے سرے سے امن بات چیت ہو رہی ہے۔
(جاری ہے)
فریقین کی طرف سے فائر بندی کا احترام کس حد تک؟
لبنان جنگ میں جس فائر بندی کی مدت کے ختم ہونے سے چند روز قبل اسرائیل اور لبنان آج جمعرات کی شام آپس میں دوبارہ امن مذاکرات شروع کر رہے ہیں، اس کے بارے میں یہ بات بشمکل ہی کہی جا سکتی ہے کہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ اس سیزفائر کا احترام کر رہے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر اس فائر بندی پر اب تک کسی حد تک عمل درآمد ہو تو رہا ہے، تاہم اس دوران اسرائیلی زمینی دستوں کی طرف سے جنوبی لبنان میں اور اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے جنوبی لبنان اور ملکی دارالحکومت بیروت میں بار بار کیے جانے والے حملوں میں اس سیزفائر کے دوران بھی تاحال سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر
اسرائیلی فوج کی طرف سے جمعرات کے دن بتایا گیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ عسکری ٹھکانوں پر اپنے حملے جاری رکھے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے اسی جنوبی علاقے میں کئی قصبوں اور دیہات کے مقامی باشندوں کو خبردار کرتے ہوئے یہ حکم بھی دے دیا تھا کہ وہ ان علاقوں سے ملک کے مشرقی حصے کی طرف منتقل ہو جائیں۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک جنگی ڈرون اسرائیل کے ریاستی علاقے میں گرا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری زخمی ہو گئے۔
لبنان کے سرکاری میڈیا ادارے کا موقف
لبنان کی سرکاری انتظام میں کام کرنے والی نیوز ایجنسی این این اے نے جمعرات کے روز بتایا کہ ملک کے جنوب اور مشرق میں اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے نئے فضائی حملوں میں ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مقامی باشندوں کو ان حملوں سے قبل کوئی وارننگ بالکل نہیں دی گئی تھی۔
لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک
جمعرات کے دن کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں سے قبل بدھ 13 مئی کو بیروت میں لبنانی وزارت صحت نے تصدیق کر دی تھی کہ کل کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی 22 افراد مارے گئے تھے، جن میں کم از کم آٹھ بچے بھی شامل تھے۔
گزشتہ لبنانی اسرائیلی مذاکرات
اسرائیل
اور لبنان کے درمیان امریکہ میں تعینات دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی سطح کی آج ہونے والی بات چیت سے پہلے ایسے گزشتہ مذاکرات وائٹ ہاؤس میں امریکی نمائندوں کی موجودگی میں 23 اپریل کو ہوئے تھے۔اس سے پہلے موجودہ لبنان جنگ میں پہلی مرتبہ چند روزہ فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ پھر 23 اپریل کو ہونے والی بات چیت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اس فائر بندی کی مدت میں مزید تین ہفتے کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ملک لبنان کے مابین مستقبل قریب میں ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔
دونوں ممالک کے مابین اب تک کوئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہ پانے کی وجہ سے اسرائیل اور لبنان تکنیکی طور پر عشروں سے ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔
ادارت: جاوید اختر