Live Updates

اسلام آباد کے پرانے دیہات کی تاحال جاری مسماری کس حد تک بجا

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 14 مئی 2026 20:40

اسلام آباد کے پرانے دیہات کی تاحال جاری مسماری کس حد تک بجا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 مئی 2026ء) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے گزشتہ سال دسمبر میں انسداد تجاوزات کی مہم کا آغاز کیا تھا، جب ڈپلومیٹک انکلیو اور وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں واقع ایک بستی کو مختصر نوٹس پر مسمار کر دیا گیا تھا۔ اگلے مرحلے میں سی ڈی اے نے اسلام آباد کے معروف دیہات بری امام، نور پور شاہاں اور سید پور میں کارروائی شروع کی اور متعدد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔

سی ڈی اے ان دیہات کو پرانی رہائشی بستیوں کے بجائے ''تجاوزات‘‘ قرار دیتی ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق ان علاقوں کے رہائشیوں کو دہائیوں قبل اس وقت مکمل معاوضہ دیا جا چکا تھا جب ریاست نے اصل میں یہ زمین حاصل کی تھی۔ اس سرکاری ادارے کے مطابق باقاعدہ ریکارڈ میں یہ ادائیگیاں درج ہیں، جن میں براہ راست مالی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ متبادل زمین کی الاٹمنٹ بھی شامل تھی۔

(جاری ہے)

چونکہ ریاست ان معاملات کو پہلے ہی نمٹا ہوا تصور کرتی ہے، اس لیے موجودہ رہائشیوں کو وہ سرکاری زمین پر غیر قانونی قابض سمجھتی ہے، جن کو وہاں رہنے کا اب کوئی قانونی حق نہیں۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا کیا ہے؟

ان علاقوں کے رہائشی حکومتی موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے افراد کو نہ تو کوئی معاوضہ ملا تھا اور نہ ہی ریاست کی جانب سے انہیں کوئی متبادل رہائش فراہم کی گئی تھی۔

متعدد رہائشی باشندوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں اور اب ان کے ''آبائی دیہات‘‘ ان سے چھینے جا رہے ہیں۔

تاریخی گاؤں سید پور میں اپنا گھر مسمار ہوتے دیکھنے والی ایک معمر خاتون کا کہنا تھا، ''میں ایک بیوہ ہوں اور میرے بچے اسکول میں تھے جب ریاست نے صبح سویرے اچانک میرا گھر مسمار کر دیا۔

میرے بچے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہیں اور اب بھی اس صدمے سے نہیں نکل سکے کہ ان کا گھر ان کے سامنے بغیر چھت کے بالکل ملبے میں بدل دیا گیا۔‘‘ اس خاتون کا کہنا تھا کہ ان کو ماضی میں رہائشی کارڈ بھی دیا گیا تھا، جو ان کے مرحوم شوہر خان محمد کے نام پر ہے، اور جس کے تحت وہ وہاں رہ سکتی تھیں، لیکن صرف مزید تعمیر پر پابندی تھی جس کی وہ پاسداری کر رہی تھیں۔

ایران جنگ: ترسیلات پر انحصار کرنے والے پاکستانی گھرانے پریشان

یہ بات بھی اہم ہے کہ گرائے گئے گھروں میں یا ان کے باہر بجلی اور گیس کے میٹر بھی لگے ہوئے تھے، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آبادی مکمل غیر قانونی تھی، تو پھر حکومتی ادارے بنیادی سہولیات کیوں فراہم کر رہے تھے اور بل اور ٹیکس بھی کیوں وصول کر رہے تھے۔

سی ڈی اے کا موقف

سی ڈی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ماضی میں زمین کے حصول کے وقت متاثرین کو انتہائی پرکشش معاوضے دیے گئے تھے۔

ان کے مطابق، ''ریاست نے چار کنال زرعی زمین کے بدلے ایک سو کنال زرعی زمین پنجاب کے مختلف علاقوں میں فراہم کی اور رہائشی گھروں کے عوض پلاٹ بھی الاٹ کیے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر کسی نے اپنا پلاٹ بیچ دیا ہے یا اب اس کے پاس گھر نہیں، تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے اور حکومت اس کی ذمہ دار نہیں ہے۔

ڈاکٹر انعم کا یہ بھی کہنا تھا کہ سروے کے مطابق ایک بستی میں 1800 گھر تعمیر ہو چکے ہیں، جبکہ ریکارڈ کے مطابق صرف 221 افراد کا اس زمین سے اصل آبائی تعلق ہے، اور وہ بھی کسی معاوضے کے حق دار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ''تجاوزات ہر حال میں تجاوزات ہی ہوتی ہیں، اور عدالت کا حکم واضح ہے کہ اتھارٹی کی ماضی کی غفلت کو قبضے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

سید پور کی زمین پر مہنگا ایف سکس سیکٹر ہے، کیا وہاں متاثرین کو پلاٹ دیے گئے؟

اس سارے معاملے کا قانونی پہلو کے علاوہ ایک زاویہ اور بھی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے قوانین کن حالات میں بنائے جاتے ہیں اور کن مفادات کے لیے، جو لوگوں کو اپنے آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔

وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ان پرانے مکینوں کو اسی علاقے میں بہتر اور ترقی یافتہ ماحول میں دوبارہ کیوں نہیں بسایا جا سکتا تھا، اور وہ اسلام آباد کے قیام اور ترقی سے اصل فائدہ اٹھانے والے کیوں نہ بن سکے؟

تعلیم یا تعصب: ہمارا نصاب بچوں کو کیا سکھا رہا ہے؟

ناقدین کے مطابق یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے کہ اسلام آباد کے پرانے دیہات کے مکینوں کو ترقی کے نام پر دور دراز علاقوں میں کیوں منتقل کیا گیا، جیسا کہ بعض افراد کو ملتان یا اس سے بھی دور زمینیں الاٹ کی گئیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام آباد کا ایف سکس سیکٹر، جو ایک انتہائی مہنگا علاقہ ہے اور جہاں اربوں روپے قیمت والے مکانات موجود ہیں، سید پور کی زرعی زمین پر تعمیر کیا گیا، مگر اب وہاں سید پور کا کوئی رہائشی نہیں رہتا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق اس حوالے سے کہتے ہیں، ''ہم ایک غریب مخالف ریاست بن چکے ہیں، جہاں امیر رہتے ہیں وہاں سے غریبوں کو کہیں دور دھکیل دیا جاتا ہے۔

‘‘ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض زمین کے بدلے معاوضہ ادا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کا اس زمین سے آبائی تعلق ہے، انہیں یہیں بسایا جانا چاہیے تھا اور اب ریاست کو چاہیے کہ ان کے لیے رہائشی عمارتیں تعمیر کرے یا کوئی اور مناسب متبادل فراہم کرے۔

جہاں ایک طرف غریبوں کے گھروں کو، چاہے وہ غیر قانونی ہی کیوں نہ ہوں، مسمار کیا جا رہا ہے، تو وہیں اقتدار کے ایوانوں کے قریب واقع ایک اشرافیہ کی عمارت کا معاملہ بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے، جہاں کارروائی خود وزیر اعظم نے رکوا دی، حالانکہ اس عمارت کو کافی عرصہ قبل غیر قانونی قرار دیا جا چکا تھا۔

'ٹیلی میڈیسن‘ خواتین ڈاکٹروں کی پروفیشن میں واپسی میں معاون

حارث خلیق کہتے ہیں، ''پاکستان میں انصاف کا اطلاق یکساں نہیں، بلکہ غریب اور امیر کے لیے الگ الگ قوانین ہیں۔ غریبوں کو ترقی کے نام پر اپنے ہی علاقوں سے نکالا جاتا ہے تاکہ وہاں امیر آباد ہو سکیں۔‘‘

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن لوگوں کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں زرعی زمین کے بدلے زمین دی گئی، وہ اکثر ملتان یا سندھ میں الاٹ کی گئی۔

بعض متاثرین کے مطابق وہ زمین بھی ان کے قبضے میں نہیں آ سکی۔ ایک مقامی رہائشی اخلاق احمد نے بتایا کہ مقامی بااثر افراد نے ان زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ انہیں واگزار نہیں کروا سکتے۔

علاقہ خالی کروا کر سی ڈی اے کا کیا منصوبہ ہے؟

وفاقی دارالحکومت میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حالیہ کارروائی کے پیچھے اس علاقے میں اشرافیہ کے لیے تعمیراتی منصوبوں کا ارادہ ہے۔

تاہم ڈاکٹر انعم فاطمہ اس تاثر کو مسترد کرتی ہیں اور خاص طور پر سید پور گاؤں کے حوالے سے کہتی ہیں، جہاں ایک مندر اور ایک گردوارے سمیت کئی تاریخی عمارتیں بھی موجود ہیں، کہ یہ علاقہ محفوظ قرار دے دیا گیا ہے اور غیر قانونی تعمیرات اس کے قدرتی حسن کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

حکومت پاکستان کا سفری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار بحال، خدشات کیا؟

ان کے مطابق سی ڈی اے اس علاقے کو خالی کرا کے یہاں شجرکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ آذربائیجان کی جانب سے حال ہی میں مرمت کیے گئے چند مکانات، جو محفوظ حدود سے باہر ہیں، انہیں سیاحتی مقاصد کے لیے لیز پر دیا جائے گا۔

ادارت: مقبول ملک

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات