800 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کو مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، سرداراویس احمد خان لغاری کی جرمن سفیر انا لیپل سے ملاقات

جمعرات 14 مئی 2026 19:48

800 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کو مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ تقریباً 800 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کو مسابقتی مارکیٹ کے ذریعے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، حکومت پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے علاوہ مزید بجلی کی خریداری نہیں کرے گی، گزشتہ سال پاکستان تقریباً 70 فیصد تک توانائی میں خود کفالت کے قریب رہا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جرمن سفیر انا لیپل سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے بدھ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے پاور ڈویژن میں جاری اصلاحاتی اقدامات اور ترقیاتی سرگرمیوں سے جرمن سفیر کو آگاہ کیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی توانائی پیداوار میں اس وقت تقریباً 55 فیصد حصہ صاف توانائی پر مشتمل ہے جبکہ حکومت اسے مرحلہ وار 90 فیصد تک لے جانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان اس وقت اپنے مقامی و قدرتی توانائی ذرائع سے خاطر خواہ مقدار میں بجلی پیدا کر رہا ہے جس سے قومی توانائی مکس میں خود انحصاری اور پائیداری میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔وفاقی وزیر نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت اس عمل کے وسطی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے تحت 11 میں سے 3 ڈسکوز کو ابتدائی طور پر نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا ہے جبکہ آئندہ سال مزید ڈسکوز کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید توانائی نظام میں اس کی افادیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی آئی زیڈ کے تعاون سے لیسکو کے لیے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم منصوبے کی منظوری زیر غور ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن اور توسیع کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے جس کے لیے پاکستان بزنس کونسل سمیت نجی شعبے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان توانائی تعاون کو مزید موثر بنانے کے لیے ’’پاکستان۔جرمنی انرجی کوآپریشن فریم ورک‘‘ کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کی اور جرمن مالیاتی اداروں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری و فنانسنگ کے مواقع بڑھانے پر زور دیا۔ جرمن سفیر انا لیپل نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان کلائمیٹ فریم ورک پہلے سے موجود ہے جس میں توانائی کا شعبہ بھی شامل ہے، دونوں ممالک اس تعاون کو مزید موثر بنانے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 300 ملین یورو کا ایک منصوبہ اس وقت عملدرآمد کے مرحلے میں ہے جبکہ 2027ء کے لیے نئے منصوبوں کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے چھوٹے ہائیڈرو پاور، سولر اور پائیدار توانائی منصوبوں میں تعاون کے تسلسل کا اعادہ کیا اور پاکستان کی اصلاحاتی سمت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں دونوں فریقین نے توانائی کے شعبے میں تکنیکی سطح پر تعاون بڑھانے اور رابطوں کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا اور جلد دوبارہ ملاقات پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔