گلشن معمار میں پانی کا بحران ، مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے ،سیف الدین ایڈوکیٹ

عوام کا احتجاج صرف پانی کے مسئلے کے خلاف نہیں بلکہ سندھ حکومت کی نااہلی، کرپشن اور کراچی دشمن پالیسیوں کے خلاف بھی ہے، عوام پانی سے محروم ہیں لیکن ٹینکر مافیا پورے شہر پر راج کر رہا ہے،قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی کا گلشن معمار میں مظاہرے سے خطاب

ہفتہ 16 مئی 2026 21:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 مئی2026ء) قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے گلشن معمار میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف یوسی 12 سیکٹر X-2میں منعقدہ فیملی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے گلشن معمار میں پانی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے متعدد ملاقاتیں ، واٹر بورڈ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے مسئلہ رکھا، اگر یہ مسئلہ ضلعی سطح پر حل نہ ہوا تو ہم احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

گلشن معمار کے عوام کا احتجاج صرف پانی کے مسئلے کے خلاف نہیں بلکہ سندھ حکومت کی نااہلی، کرپشن اور کراچی دشمن پالیسیوں کے خلاف بھی ہے۔گلشن معمار کے عوام تنہا نہیں ہیں، جماعت اسلامی ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور پانی کی مستقل فراہمی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

(جاری ہے)

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف عوام پانی سے محروم ہیں ، دوسری طرف ٹینکرمافیا پورے شہر پر راج کر رہا ہے۔

جو لوگ غیر قانونی طریقے سے پانی بیچتے ہیں، انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ جو لوگ بجلی اور پانی چوری کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ ایمانداری سے بل ادا کرنے والوں کو ہی سزا دی جاتی ہے۔مظاہرے سے سیکریٹری ضلع گڈاپ ابو الخیر ملک، ضلعی صدر پبلک ایڈ کمیٹی ابوالضیا ء پرویزودیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مظاہرے میں خواتین ،بچوں اور بزرگوں نے بھی شرکت کی ،مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز اٹھائے تھے جن پرتحریر تھا کہ معمار انتظامیہ کہانی نہیں پانی دو،معمار کو آبادی کے حساب سے پانی دو، انتظامیہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے واجبات کیوں جمع نہیں کروارہی معمار کو پانی ٹینکروں میں نہیں نلکوں میں دو۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ گلشن معمار کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ خواتین ، بچے ، بزرگ سخت پریشان اور اذیت میں مبتلا ہیں لیکن سندھ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پانی کا مسئلہ صرف گلشن معمار میں نہیں بلکہ آدھے سے زیادہ شہر پانی سے محروم ہے ،، عوام گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹوٹی سڑکوں، کچرے کے ڈھیروں، سیوریج کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے بحران کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں، خصوصاً سندھ میں، ایسا نظام مسلط ہے جہاں اقتدار پر قابض حکمران کراچی کو اس کے شہریوں کا شہر نہیں سمجھتے اور کراچی کے عوام کومحض ووٹ اور ٹیکس دینے والی مشین سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کراچی صرف وسائل لینے اور مال بنانے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ تمام مظلوم اور محروم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکے۔

ہمارا مقصد عوام کو متحد کرنا اور انہیں ان کے حقوق کے حصول کے لیے منظم کرنا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ حقوق کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیے جاتے، ان کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ جب عوام گھروں سے نکلیں گے ، خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ جدوجہد کا حصہ بنیں گے تو ان کو ان کے حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا،اگر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو پورا کراچی سڑکوں پر نکلے گا اور حکمرانوں کو جواب دینا ہوگا۔

کراچی کے عوام کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔ پانی، تعلیم، صحت، روزگار، بجلی اور گیس عوام کا آئینی و بنیادی حق ہے اور عوام اپنا یہ حق لے کر رہیں گے۔پیپلز پارٹی 50سال سے مختلف ادوار میں اقتدار میں رہی اور گزشتہ 18برس سے مسلسل حکومت کر رہی ہے مگر آج تک کراچی کے لیے کوئی دیرپا منصوبہ مکمل نہ کر سکی۔کے فور منصوبہ کراچی کے عوام کے لیے اُمید کی کرن تھا۔ یہ منصوبہ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور میں شروع کیا گیا تاکہ کراچی کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، مگر حکمرانوں کی نااہلی، بدعنوانی اور عدم دلچسپی نے اسے تعطل کا شکار کر دیا اور موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے اس کی جلد تکمیل کی کوئی امید نہیں ہے۔