پی ٹی آئی دور حکومت میں شدید دبائو کا سامنا تھا، اصلاحات نافذ نہیں کر سکا: شبر زیدی
ٹیکس نظام، ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور ایف بی آر کی ساخت میں بنیادی تبدیلیوں کی کوشش کی، تاہم نظام کی مزاحمت کے باعث یہ اقدامات مکمل نہ ہوسکے،انٹرویو
اتوار 17 مئی 2026 14:15
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایف بی آر میں موجود اضافی عملے سے متعلق بھی تجاویز دی تھیں اور مقف اختیار کیا تھا کہ ادارے میں 10 سے 15 ہزار اضافی افراد موجود ہیں، جنہیں عملی طور پر کام کے بغیر رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق انہوں نے سفارش کی تھی کہ ایسے ملازمین کو دفاتر آنے سے روک دیا جائے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔شبر زیدی نے کہا کہ اہل خانہ نے انہیں صحت اور ذہنی دبا کے باعث عہدہ چھوڑ کر کراچی واپس آنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں دوبارہ ایف بی آر میں واپسی کے لیے قائل کیا۔ ان کے بقول جب وہ واپس آئے تو ادارے میں وہی پرانی صورتحال دیکھ کر ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی، جس کے بعد وہ دوبارہ کراچی واپس آگئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی باضابطہ طور پر ایف بی آر سے استعفی نہیں دیا۔سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں ہر حکومت ابتدا میں کیش اکانومی کم کرنے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو دستاویزی بنانے اور اسمگلنگ روکنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن چند ماہ بعد وہی حکومت نظام کا حصہ بن جاتی ہے یا اسے بنا دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تبدیلی اور انقلاب صرف نعرے بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ جو بھی نظام کے خلاف جانے کی کوشش کرتا ہے، اسے باہر نکال دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نظام کو درست کرنے کے لیے صرف افراد نہیں بلکہ موثر اور خودکار مشینری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 14 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود پاکستان آج بھی جی ڈی پی کے تناسب سے تقریبا 10 فیصد ٹیکس اکٹھا کررہا ہے، جو حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ جتنے زیادہ اختیارات دیے جائیں گے، اتنی ہی کرپشن بڑھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی شعبے اور تاجروں کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں کے مسائل اور نوعیت مختلف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ اس لیے مسائل کا شکار ہے کیونکہ ہم اسے درست کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ انہیں سپورٹ کررہے تھے، تاہم انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ بانی پی ٹی آئی چاہتے تھے کہ نظام خراب ہی رہے۔شبر زیدی نے کہا کہ موجودہ نظام سے امیر طبقہ فائدہ اٹھا رہا ہے، اسی لیے وہ اس میں تبدیلی نہیں چاہتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض افسران نے ان کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی تھی، تاہم وہ جلد ختم ہوگئی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں جتنی حمایت حاصل تھی، شاید ہی کسی اور کو ملی ہو۔مزید قومی خبریں
-
کشمیر کے عوام ہمارے اپنے ہیں، ان کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے، معاملے کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے، ڈاکٹر طارق فضل
-
پاسکو کے زریعے صوبے کو گندم فراہمی کے احکامات پر وزیراعظم کا شکر گزار ہوں، گورنرخیبر پختونخوا
-
آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، مسلم لیگ کا کردار مثبت اور فیصلہ کن ہوگا،چوہدری شجاعت حسین
-
9 مئی جلائو گھیرائو مقدمات ،علیمہ خان،عظمی خان ،اسد عمر سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں میں توسیع
-
’’آئو میں تمہیں زمزم پلاتا ہوں ‘‘تیزاب گردی واقعہ میں 6 افراد جھلس گئے، ملزم گرفتار
-
پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، شرح نمو چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
-
حیدرآباد میں شادی کی تقریب کا بچا ہوا کھانا درجنوں افراد کیلئے بیماری کا سبب بنا
-
وزیراعظم سے غلام احمد بلور کی ملاقات، ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور دلچسپی کے دیگر امور بارے گفتگو
-
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے کراچی جیمخانہ کے صدرکی قیادت میں وفد کی ملاقات
-
گورنرخیبرپختونخوا سے شہید بینظیر بھٹو و یمن یونیورسٹی پشاور کی وائس چانسلر کی قیادت میں حکام کی ملاقات، ڈی آئی خان میں کیمپس کے قیام پر تبادلہ خیال
-
وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات،اٹک انتظامیہ شدید گرمی کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے لیے متحرک ہو گئی
-
ٹینتھ ایونیو منصوبے کا 47 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے،وزیر مملکت برائے داخلہ کا قومی اسمبلی میں جواب
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.