ترکیہ میں سیاسی بحران سنگین، پولیس نے اپوزیشن کو دھکے دے کر باہر نکال دیا، آنسو گیس کا استعمال

پولیس نے مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہوکر معزول قیادت کوبے دخل کردیا‘عمارت کے اندرآنسوگیس بھرگئی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 25 مئی 2026 18:06

ترکیہ میں سیاسی بحران سنگین، پولیس نے اپوزیشن کو دھکے دے کر باہر نکال ..
انقرہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔25 مئی ۔2026 ) ترکیہ میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ، جہاں ترک پولیس نے مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں داخل ہوکر معزول قیادت کو نکالنے کی کارروائی کی پولیس نے اس دوران آنسو گیس کا استعمال بھی کیا. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس نے عمارت کے باہر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹا کر زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ اندر موجود افراد نے نعرے بازی کی اور پولیس پر مختلف اشیا پھینکیں کارروائی کے دوران عمارت کے اندر آنسو گیس پھیل گئی، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی.

(جاری ہے)

ترک عدالت نے چند روز قبل ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ اوزگور اوزیل کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور 2023 میں ہونے والے پارٹی انتخابات کو بے ضابطگیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا تھا بعد ازاں انقرہ کے گورنر نے پارٹی ہیڈکوارٹر خالی کرانے کا حکم جاری کیا عدالت نے اوزگور اوزیل کی جگہ پارٹی کے سابق سربراہ کمال کلیچدار اوغلو کو بحال کردیا، جو 2023 کے صدارتی انتخاب میں صدر طیب اردوان سے ہار گئے تھے.

سیاسی تجزیہ کار اس صورتحال کو ترکی میں جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دے رہے ہیں ان کے مطابق اس فیصلے سے صدر اردوان کی طویل حکمرانی مزید مضبوط ہوسکتی ہے عدالتی فیصلے کے بعد ترک مالیاتی منڈیوں میں بھی مندی دیکھی گئی، تاہم اگلے روز کچھ بہتری آئی . پولیس کارروائی کے دوران اوزگور اوزیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہم پر حملہ کیا جارہا ہے بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ ریپبلکن پیپلز پارٹی اب سڑکوں پر احتجاج کرے گی اوزگور اوزیل اپنے حامیوں کے ہمراہ تقریبا 6 کلومیٹر مارچ کرتے ہوئے ترک پارلیمنٹ پہنچے، جہاں ہزاروں افراد نے ان کا استقبال کیا مظاہرین نے کمال کلیچدار اوغلو کے خلاف نعرے بھی لگائے.

اوزیل کا خطاب میں کہنا تھا کہ جب تک پارٹی کو اس قبضے سے آزاد نہیں کرالیتے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی دوسری جانب پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی انہیں پارلیمانی گروپ کا سربراہ منتخب کرلیا ہے ادھر ایک ترک ٹی وی چینل نے کلیچدار اوغلو کی ٹیم کے افراد کو پارٹی ہیڈکوارٹر کے اندر دکھایا، تاہم کمال کلیچدار اوغلو نے اب تک اس صورتحال پر کوئی بیان نہیں دیا معزول قیادت نے اپنے حامیوں کو استنبول میں مختلف مقامات پر احتجاج کی کال بھی دی ہے.

اوزگور اوزیل اور ان کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی طریقے سے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے اوزیل نے جلد نئے پارٹی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کلیچدار اوغلو کا کہنا ہے کہ نئی کانگریس مناسب وقت پر بلائی جائے گی ترکیہ میں اگلے عام انتخابات 2028 میں متوقع ہیں تاہم ماہرین کے مطابق حالیہ بحران کے بعد قبل از وقت انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں ترک حکومت نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ عدالتوں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے حکومت کا کہنا ہے کہ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے.