اسلام آباد میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے پیش نظر نئے اسکولوں کی ضرورت ہے‘سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب

بدھ 3 جون 2026 23:11

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 جون2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وزارت تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں آؤٹ آف اسکول بچوں سے متعلق ’’نو چائلڈ لیفٹ بیہائنڈ‘‘ مہم پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ مارچ میں مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس کا مقصد اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی اور انہیں تعلیمی نظام میں شامل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ڈور ٹو ڈور سروے کیا جا رہا ہے اور اب تک اسلام آباد کی 31 یونین کونسلز کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

حکام کے مطابق 5 سے 16 سال عمر کے 22 ہزار 922 آؤٹ آف اسکول بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ ایف ڈی ای، پیرا اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس مہم میں شریک ہیں۔ نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔رکن کمیٹی شازیہ سوبیہ نے کمیٹی کو فراہم کیے گئے مختلف اعداد و شمار میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ درست اعداد و شمار کون سے ہیں۔

ڈی جی فیڈرل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ علی اصغر نے وضاحت کی کہ کمیٹی کے پاس موجود ریکارڈ دو روز پرانا ہے جبکہ اجلاس میں تازہ ترین ڈیٹا پیش کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں نان فارمل اسکولوں کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں اس وقت 1100 سے زائد نان فارمل اسکول کام کر رہے ہیں اور پہلی مرتبہ ان اداروں میں پانچویں جماعت کے بورڈ امتحانات کا انعقاد کیا گیا، جس میں 60 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے۔

چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی نے سوال اٹھایا کہ آیا ان بچوں کو صرف پرائمری سطح تک تعلیم دی جائے گی یا انہیں مڈل اور میٹرک تک بھی پہنچایا جائے گا۔ اس پر حکام نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کو بتدریج مین اسٹریم تعلیمی اداروں میں منتقل کیا جائے ۔سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے بتایا کہ اسلام آباد میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے پیش نظر نئے اسکولوں کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے منصوبے تجویز کیے گئے تھے، تاہم انہیں تاحال منظوری نہیں مل سکی۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی این جی او سے مالی معاونت حاصل نہیں کی جا رہی، صرف تکنیکی معاونت لی جا رہی ہے۔اجلاس میں اساتذہ کی کم تنخواہوں اور ادائیگیوں میں تاخیر کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ شازیہ سوبیہ نے بعض اساتذہ کو آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملنے کی شکایات کا ذکر کیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ اساتذہ کو بینکوں کے ذریعے ادائیگیاں کی جاتی ہیں اور شکایات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

کمیٹی نے پاکستان ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) میں چیئرمین کی عدم تعیناتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ اگر ادارے کا سربراہ ہی موجود نہ ہو تو ادارہ مؤثر انداز میں کیسے کام کر سکتا ہے۔ سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کی جا چکی ہے۔اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے کراچی اور اسلام آباد کیمپسز کے انتظامی اور مالی مسائل پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔

کمیٹی اراکین نے کراچی کیمپس میں بڑھتے ہوئے مسائل، ملازمین کی برطرفیوں اور دیگر انتظامی معاملات پر تشویش کا اظہار کیاچیئرپرسن نے اردو یونیورسٹی کے معاملات پر علیحدہ بریفنگ لینے اور تمام متعلقہ فریقین کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی تجویز دی جبکہ بعض اراکین نے اس معاملے پر ذیلی کمیٹی بنانے کی سفارش بھی کی۔وفاقی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے حوالے سے بھی شکایات زیر غور آئیں۔

اراکین کمیٹی نے الزام لگایا کہ بعض میرٹ ہولڈر طلبہ کو ایوننگ شفٹ میں داخلہ دیا گیا جبکہ دیگر کو مارننگ شفٹ میں جگہ مل گئی۔ سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے وضاحت کی کہ گنجائش کی کمی کے باعث تمام نئے داخلے ایوننگ شفٹ میں کیے جا رہے ہیں اور اگر کسی ادارے نے خلاف ضابطہ مارننگ شفٹ میں داخلہ دیا ہے تو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔چیئرپرسن مہتاب اکبر راشدی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم، ان کے مستقبل کے تعلیمی راستے، نان فارمل اسکولوں کی استعداد اور دیگر اہم سوالات کے جامع جوابات کے ساتھ تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی جائے۔