کراچی، وفاقی اردو یونیورسٹی کا 11 کروڑ مالیت کا سولر منصوبہ تکنیکی خامیوں کی بھینٹ چڑھ گیا
ہفتہ 13 جون 2026 15:56
(جاری ہے)
یونیورسٹی کو لوڈ سینکشن اور گرڈ سے منصوبے کو منسلک کرنے کے لیے 85 لاکھ روپے فی کیمپس کے حساب سے بجلی ساز کمپنی کو ادا کرنے ہیں جس کے بعد ہی یہ منصوبہ کار آمد ہوسکے گا۔
یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرڈ سے منسلک نہ ہونے کے سبب سولر سے صرف ضرورت کے مطابق بجلی حاصل کی جارہی جبکہ ہدف اور پیداوار کی صلاحیت حاصل ہونے والی بجلی سے کہیں زیادہ ہے۔ادھر آن گرڈ منصوبہ ہونے کے سبب سولر میں بیٹریاں بھی نہیں لگائی گئی ہیں جس کے سبب اضافی بجلی محفوظ بھی نہیں ہوسکتی۔ زرائع بتاتے ہیں کہ گرڈ سے عدم منسلک ہوے اور بیٹریاں نہ ہونے کے باعث لوڈ شیڈنگ میں یونیورسٹی کو جنریٹر چلانے ہوتے ہیں۔ادھر یہ بھی اطلاعات سامنے آئی ہے کہ سولرائزیشن میں ناقص وائرنگ اور غیر معیاری ارتھنگ کی گئی ہے اور اس حوالے سے کچھ تصاویر اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں۔ یاد رہے کہ گرین انرجی پروجیکٹ کے تحت یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز میں مجموعی طور پر 1,050 کلو واٹ (kWp) کا آن گرڈ سسٹم لگایا گیا تھا، پہلے مرحلے میں گلشنِ اقبال کیمپس کراچی میں 250 کلو واٹ، اسلام آباد کیمپس میں 220 کلو واٹ اور عبدالحق کیمپس کراچی میں 80 کلو واٹ کے سولر سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ایک سال بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے اسلام آباد میں 400 کلو واٹ اور گلشنِ اقبال کیمپس میں مزید 100 کلو واٹ کا اضافہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ اضافی بجلی نیٹ میٹرنگ کے ذریعے فروخت کرکے یونیورسٹی کی انرجی ضروریات اور مالیاتی خسارے کو پورا کرنا تھا جو نہیں ہوسکا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منصوبے کی خامیوں کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ پروجیکٹ کی فنڈ یوٹیلائزیشن رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہی۔ بتایا جارہا ہے کہ گذشتہ ماہ مئی 2026 میں یونیورسٹی کی جانب سے 15 لاکھروپے کا بجلی کا بل ادا کیا گیا یونیورسٹی میں آن گرڈ سولر سسٹم لگایا گیا ہے جسے فعال (Activate) کرنے کے لیے گرڈ یا جنریٹر کی بجلی کا ہونا لازمی ہے۔دوسری جانب نیٹ میٹر نگل کے لیے جو ڈیمانڈ ڈرافٹ جمع کرانا ہے یونیورسٹی کے پاس اس کی ادائیگی کے لیے فنڈز موجود نہیں۔ ادھر "ایکسپریس" کے رابطہ کرنے پر سولرائزیشن پروجیکٹکے ڈائریکٹر راحت اللہ کا کہنا تھا کہ 1949 سے اردو یونیورسٹی کراچی کے دونوں کیمپسز کا لوڈ سینکشن نہیں۔ لوڈ سینکشن نہ ہونے سے نیٹ میٹرنگ نہیں کرپارہے تاہم ہم بجلی ضائع نہیں کررہے جس قدر استعمال ہے اتنی ہی کنٹرول پروڈکشن کررہے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ ہماری کوششوں سے اسلام آباد کیمپس کا بل مائنس میں جاچکا ہے انھوں نے دعوی کیا کہ کراچی میں بھی بل پر 65 فیصد تک کمی آئی ہے۔ پورٹل پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اب تک 1 سال میں سولر سے 28 ملین روپے تک پروڈکشن کے عوض بجلی بچا چکے ہیں۔متعلقہ عنوان :
مزید قومی خبریں
-
پنجاب بجٹ 2026-27، نہری نظام کی بہتری اور آبی ذخائر کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان
-
این ڈی ایم اے کا 20جون تک موسمی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری، گرج چمک کیساتھ بارشوں کا امکان
-
سینیٹر فیصل واوڈا کا وزارت صنعت و پیداوار میں 125 ارب کی بے ضابطگی کا الزام
-
علی حیدرگیلانی کا جنوبی پنجاب کارڈ اور سیاسی بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی: عظمیٰ بخاری
-
پنجاب بھر میں 1341 ٹریفک حادثات میں 17 افراد جاں بحق، 1577زخمی
-
امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے محسن نقوی کی ملاقات، ملکی و خطہ کی صورتحال پر گفتگو
-
پنجاب اسمبلی میں 5903.5 ارب روپے کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ منظور
-
جنوبی پنجاب کارڈ کھیل کر سیاست چمکانے کی کوشش نہ کی جائے، عظمیٰ بخاری
-
اٹک میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی،وزیر ریلوے حنیف عباسی کا سکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین
-
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی سے یونان کی سفیر کی ملاقات
-
ملازمین کی تنخواہیں دیں ورنہ آپ کی تنخوا قرق کر لیں گے، سندھ ہائیکورٹ کی ڈی جی ایس بی سی اے کو آخری وارننگ
-
دنیا تسلیم کر رہی، آج پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم اور بااعتماد ملک کے طور پر ابھر رہا ہے،حنیف عباسی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.