ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر ٹاورز لگانے کے غیرمعمولی اختیارات دینے کی تیاری

ٹیلی کیمونیکشن کمپنیاں کسی کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان، پلاٹ یا جگہ 30 دن کے نوٹس پر خالی کراکے اپنے ٹاورز/مشینری لگا سکتی ہیں، رکاوٹ ڈالنے یا انکار کرنے پر شہریوں کو 5 کروڑ روپے تک بھاری جرمانے کا انکشاف

Sajid Ali ساجد علی بدھ 17 جون 2026 13:23

ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر ٹاورز لگانے کے غیرمعمولی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جون2026ء)  وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026ء متعارف کرایا گیا ہے، جس کی دفعات پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موجود حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز شدید حیران ہوئے اور تشویش کا شکار ہوگئے۔

 
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سینیٹ کے جاری سیشن میں ایک انتہائی اہم ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے جو قومی اسمبلی سے پہلے ہی پاس ہو چکا ہے، یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے سپرد کیا گیا، جہاں سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت اجلاس کے دوران اس کی شقوں پر اراکینِ کمیٹی نے شدید ترین تحفظات کا اظہار کردیا۔

(جاری ہے)

 
بتایا گیا ہے کہ اس ترمیمی بل میں ایک نئی شق سیکشن 27B شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اگر کوئی بھی مالکِ مکان، دکاندار، کرایہ دار، زمیندار یا ادارہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو انٹرنیٹ فائبر بچھانے یا موبائل ٹاورز و دیگر مشینری لگانے کے لیے حقوقِ راہداری دینے سے انکار کرے گا، یا اس کام میں تاخیر یا رکاوٹ کا سبب بنے گا، تو حکومتِ وقت اس شہری یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کرسکے گی۔

 
معلوم ہوا ہے کہ سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ، سینیٹر سعدیہ عباسی و دیگر اراکین نے بل کی زبان اور نجی املاک کے حقوق پر گہرے سوالات اٹھائے، اس بل کے ذریعے کمپنیوں کو یہ اختیار ملنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی نجی جگہ کو شارٹ نوٹس پر انفراسٹرکچر کے لیے حاصل کرسکیں اور انکار کی صورت میں شہری کو کروڑوں روپے کے جرمانے کا عذاب جھیلنا پڑے۔

سینیٹرز نے مؤقف اپنایا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد یا گھر پر ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی اجازت دے، جب تک واضح قانونی تحفظات اور باہمی رضامندی کا کوئی شفاف طریقہ کار نہیں بنایا جاتا، تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے شہریوں کا استحصال ہو سکے۔

 
کمیٹی میں سینیٹرز کے شدید اعتراضات کے بعد وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے اس بل کے مقاصد پر وضاحت پیش کی اور اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اس فریم ورک کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی کی نجی املاک پر زبردستی قبضہ یا اراضی حاصل کی جائے، ٹاورز اور فائبر کی تنصیب مروجہ قوانین اور باہمی معاہدوں کے تحت ہی ہوگی، اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھانے، فائیو جی کے لیے موبائل ٹاورز کی فائبر ائزیشن تیز کرنے اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان جاری روٹ کے تنازعات کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

 
بتایا جارہا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بل پر مزید غور کرنے اور شق وار جائزہ لینے کے لیے اس کی منظوری کو اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا تاکہ مبہم الفاظ کو تبدیل کر کے نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔