بھارت سندھ طاس معاہدہ کے بارے میں کوئی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں کر سکتا، حنا ربانی کھر

منگل 30 جون 2026 17:28

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کے بارے میں کوئی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں کر سکتا،یورپی ممالک سمیت دیگر ممالک کو اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی ملک باہمی معاہدوں ، عالمی قوانین اور روایات سے یکطرفہ طور پر انحراف نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک دھوکے باز ملک ہے، وہ ایک پوری تہذیب کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل 12 میں واضح ہے کہ باہمی توثیق سے سندھ طاس معاہدہ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی ثالثی عدالت میں تسلیم کیا کہ اس معاہدہ کے بارے میں کوئی ملک تنہا فیصلے نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک مثالی اور پائیدار معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت سمیت دیگر ممالک موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہیں لیکن عام لوگوں کو پانی کی محفوظ فراہمی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک سمیت دیگر ممالک کو اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔