بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کر کے عالمی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، حنا ربانی کھر

منگل 30 جون 2026 22:27

بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کر کے عالمی قانون کی خلاف ورزی کر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 جون2026ء) سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں اور اس معاہدے کی خلاف ورزی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے بین الاقوامی نظام کا مسئلہ ہے۔ عالمی برادری نے اس طرزِ عمل کا بروقت نوٹس نہ لیا تو مستقبل میں دیگر ممالک بھی ایسے اقدامات کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت خود کو عالمی نظام میں اصول وضع کرنے والا ملک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا امیدوار قرار دیتا ہے، مگر عالمی قوانین کا محافظ بننے کی خواہش رکھنے والا ملک آج خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ اس کی کسی بھی شق میں تبدیلی صرف دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے، اس لیے کسی ایک فریق کو معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

ان کے بقول مستقل ثالثی عدالت بھی اپنے فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔حنا ربانی کھر نے سوال اٹھایا کہ کوئی ملک کس طرح کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے جیسے عزائم کا اظہار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت دی گئی تو کل یہی رویہ کسی اور ملک کے خلاف بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، جس سے عالمی معاہدوں کی ساکھ اور بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنے دورِ وزارت میں انہوں نے ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی، تاہم افسوس کہ بھارت کا رویہ اس راہ میں مسلسل رکاوٹ بنتا رہا۔انہوں نے زور دیا کہ پانی کو تنازع یا دباؤ کے آلے کے بجائے باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری یقینی بنانے اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ یہ معاملہ صرف پاکستان نہیں بلکہ عالمی قانونی نظام کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔