16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کے زینب الرٹ کی رپورٹ پر سوالات، این سی سی آئی اے سے بھی جواب طلب

بدھ 1 جولائی 2026 21:07

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جولائی2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے ہونے والے نقصانات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران زینب الرٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پیمرا کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالتی طلبی پر زینب الرٹ ریکوری اینڈ ریسپانس ایکٹ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالستار بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا ’’کیا آپ نے میرا سوالنامہ کسی اور کو بھیج کر اس کے جواب لکھوائے ہیں؟‘‘ عدالت نے ڈی جی زینب الرٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اس معاملے پر کام کر رہی ہے، آپ کیا کر رہے ہیں؟ جو سوالات پوچھے گئے تھے، ان کے جواب تو آپ نے دیئے ہی نہیں۔

(جاری ہے)

ڈی جی زینب الرٹ عبدالستار نے عدالت کو بتایا کہ ادارے نے تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔ اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ صرف ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں یا بچوں کے تحفظ اور ان کی ریکوری کے لیے بھی عملی اقدامات کرتے ہیں؟ ڈی جی زینب الرٹ نے بتایا کہ ادارہ بچوں کی ریکوری، طبی معائنے اور ذہنی مسائل کے علاج کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ ہزار سے زائد بچوں کو ریکور کیا جا چکا ہے جن میں بعض گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے جبکہ کچھ اغواء ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کسی بچے کے اغواء کی صورت میں زینب الرٹ اسلام آباد پولیس کی معاونت حاصل کرتا ہے۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا اغواء شدہ بچوں کی ایف آئی آرز اور متعلقہ مقدمات میں بھی آپ پیش ہوتے ہیں؟ ہم نے اپنے حکم میں ایک ایک نکتے پر جواب مانگا تھا، مگر آپ نے ان سوالات کے جواب نہیں دیئے۔ بعد ازاں عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی۔