بھارت سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا‘ احمر بلال صوفی

جمعہ 3 جولائی 2026 21:36

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جولائی2026ء) بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہمحض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا ء میں امن کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے،بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہ ہی ختم کر سکتا ہے،1960 میں ہونے والا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے موثر ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔

ایک انٹر ویو میں احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں سرحد پار بہنے والے دریائوں کو کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں سمجھا جاتا بلکہ انہیں مشترکہ قدرتی وسیلہ تصور کیا جاتا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بہنے والے دریائوں پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی ریاست پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے تو یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی بھی خلاف ورزی شمار ہوگی کیونکہ جنگ کے قوانین کے تحت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

احمر بلال صوفی نے مشورہ دیا کہ پاکستان کو اس صورتحال کا صرف سیاسی نہیں بلکہ قانونی جواب دینا چاہیے۔ پاکستان پہلے مرحلے میں بھارت سے باضابطہ سفارتی سطح پر مطالبہ کرے کہ وہ ایسے بیانات اور اقدامات سے باز رہے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی قانونی حکمت عملی مزید موثر بناتے ہوئے ان تمام کمپنیوں، مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور بینکوں کو بھی نوٹسز جاری کرنے چاہئیںجو ایسے منصوبوں میں شریک ہوں جن سے پاکستان کے آبی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

اگر ایسے منصوبوں کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو پاکستان متعلقہ اداروں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں اربوں ڈالر ہرجانے کے دعوے دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قانونی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی اپنا مقدمہ موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ عالمی برادری کو باور کرایا جا سکے کہ پانی کو سیاسی دبا یا جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

اگرچہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن پھر بھی اگر بھارت یکطرفہ اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھتا ہے تو مستقبل میں کشیدگی میں اضافے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس معاملے پر عالمی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جبکہ پاکستان بتدریج اپنا قانونی مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کر رہا ہے۔احمر بلال صوفی نے تجویز دی کہ مستقبل میں اگر دونوں ممالک مذاکرات کی راہ اختیار کریں تو انڈس واٹر ٹریٹی کے ساتھ ایک اضافی پروٹوکول پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی سمیت نئے چیلنجز کو شامل کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر چین کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔