وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی سلیکون ولیج کے سی ای او اور چینی وفد سے ملاقات، ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر تبادلہ خیال

جمعہ 3 جولائی 2026 20:59

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 جولائی2026ء) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، جناب قیصر احمد شیخ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں بریگیڈیئر عابد چیمہ، سی ای او دی سلیکون ولیج (پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس فری ٹیکنالوجی پارک) اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر بزنس ڈویلپمنٹ کیپیٹل اسمارٹ سٹی، کے علاوہ ڈیوڈ ڈائی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سائنو برٹش ریجنل ڈویلپمنٹ فنڈ مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ بھی شریک تھے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بشمول ایڈیشنل سیکریٹری ارفا اقبال، ڈی جی محمود طفیل، اور چین کے لیے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی جناب ظفرالدین بھی اجلاس میں موجود تھے۔وفاقی وزیر نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں ان کی دلچسپی کو سراہا۔

(جاری ہے)

وفد نے بھی وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مستقبل کے تعاون پر تفصیلی گفتگو کے لیے خصوصی وقت نکالا۔

اجلاس کے دوران، مسٹر ڈیوڈ ڈائی نے اپنے وسیع تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1980 اور 1990 کی دہائی سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل میں سرگرم رہے ہیں، ابتدا میں امریکہ سے چین اور اب چین سے دنیا کے دیگر حصوں تک۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً کمپیوٹر چپ پیکیجنگ، کنڈکٹرز، گرین انرجی چارجرز، اور جدید مینوفیکچرنگ و ریسرچ کے شعبوں میں۔

بریگیڈیئر عابد چیمہ نے سلیکون ولیج میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی، جس میں پاکستان کا پہلا ٹیکس فری ٹیکنالوجی زون اور ملک کا پہلا اے آئی سے چلنے والا ڈیٹا سینٹر شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کے ٹیکنالوجی منظرنامے میں سنگِ میل قرار دیا۔مسٹر ڈائی نے بتایا کہ ان کی کمپنی چین میں ایک ٹیکنالوجی پارک چلا رہی ہے اور پاکستان میں سلیکون ولیج کے ساتھ اشتراک کے تحت اسی نوعیت کے سسٹر ٹیکنالوجی پارکس قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے لیتھیم ٹیکنالوجی، جنوبی پاکستان خصوصاً کراچی میں سرمایہ کاری، اور پاکستان اسٹیل ملز میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے وفد کو پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے روس کے ساتھ جاری مذاکرات سے آگاہ کیا اور انہیں کراچی کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ مواقع کا خود جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے چنیوٹ میں حالیہ دریافت ہونے والے آہنی ذخائر کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کی معدنی صلاحیت کو اجاگر کیا۔

وزیر نے اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کے تحت دی جانے والی مراعات پر روشنی ڈالی، جن میں 9 سال تک انکم ٹیکس میں چھوٹ اور مشینری کی درآمد پر زیرو ڈیوٹی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، جس کا ثبوت حالیہ دورہ چین اور مفاہمتی یادداشتیں ہیں۔ایڈیشنل سیکریٹری ارفا اقبال نے وفد کی دلچسپی کو سراہا اور کہا کہ اس نوعیت کے اشتراک پائیدار معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام وزارتیں، بالخصوص وزارتِ صنعت، شمسی توانائی اور الیکٹرک وہیکلز جیسے شعبوں میں جدید پالیسیوں پر کام کر رہی ہیں تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔وفاقی وزیر نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ مکمل سہولت فراہم کرے گا اور ریگولیٹری و نان ریگولیٹری مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔

چین کے لیے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی، جناب ظفرالدین نے کہا کہ وزیرِاعظم چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط کے فروغ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے وفد کو ترغیب دی کہ وہ اپنے دلچسپی کے شعبے BOI کے ساتھ شیئر کریں تاکہ مؤثر سہولت کاری اور رابطہ کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کا اختتام باہمی تعاون کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو تیز کرنے، اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کی سہولت اور پاکستان کو ایک ممتاز سرمایہ کاری منزل کے طور پر فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔