Live Updates

ذاتی مفادات‘ دھڑے بندیاں:تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے پی کے میں کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام

یہ تاثر درست ہے تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان‘وزیر‘مشیر اور سیاسی قیادت خود نہیں چاہتی کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں‘وزیراعلی سہیل آفریدی‘پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت ‘اراکین اسمبلی اور وزیروں‘مشیروں کو صوبے میں سیاسی سرگرمیوں سے کس نے روکا ہے؟.تحریک انصاف کے کارکنوں اور پشاور کی مقامی صحافیوں کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 6 جولائی 2026 16:28

ذاتی مفادات‘ دھڑے بندیاں:تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے پی کے میں کارکردگی ..
پشاور/اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔06 جولائی ۔2026 ) سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی حادثے میں ایک ہی خاندان کے 7افراد کی ہلاکت کے ایک ہفتے سے بھی کم مدت کے بعد سوات سمیت کے پی کے کی جھیلوں میں غیرمحفوظ کشتی رانی اور دیگر سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں‘وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے بھی تفتیش صرف گرفتار کیئے جانے والے کشتی کے آپریٹرتک محدود ہے.

(جاری ہے)

مقامی صحافیوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے بغیرنتائج حاصل کرنا ممکن نہیں‘ان کا کہنا ہے کہ مقامی اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے ذاتی مفادات کی وجہ سے تناﺅ رہتا ہے ان دھڑے بندیوں سے بھی بیوروکریسی کو فائدہ ملتا ہے مگر سیاحوں اور شہریوں کے مسائل بڑھتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ اپرسوات اور لوئرسوات کے اراکین کا ایک دھڑا موجودہ وزیراعلی خیبرپختون خوا سہیل آفریدی سے کابینہ میں تبدیلیاں کرنے پرناراض ہے جبکہ دوسرا دھڑا اہم عہدوں پر اپنے قریبی رشتہ داروں کی تعیناتیاں کروانے میں مصروف ہے‘انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بہت حد تک درست ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان‘وزیر‘مشیر اور سیاسی قیادت خود نہیں چاہتی کہ عمران خان جیل سے باہر آئیں.

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی حکومت چلانے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان کی ٹیم میں شامل کچھ لوگ انہیں ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہیں‘دوسری جانب تحریک انصاف خیبرپختون خوا کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت بھی صوبے میں ڈیلیورکرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اس وقت صوبے کے ووٹروں میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہورہی ہے تاہم ہماری خوش قسمتی ہے کہ وفاق کی بری کارکردگی کی وجہ سے یہ معاملہ دب جاتا ہے.

انہوں نے کہاکہ وزیراعلی اسلام آباد اور روالپنڈی کے دوروں کے علاوہ کہیں نہیں جاتے‘سہیل آفریدی نے وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد صوبے کے اضلاع کا ابھی تک دورہ نہیں کیا‘وہ عوامی قسم کے سیاست دان ہیں اور وزیراعلی کے دورے‘جلسے‘کارکنوں سے ملاقاتیں سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہیں انہوں نے کہاکہ صوبائی کابینہ کے نصف سے زیادہ اراکین مستقل طورپر اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ضروری اجلاسوں میں شرکت کے لیے پشاور آتے ہیں.

صوبے میں بیشتروزارتوں کے قلمدان وزیراعلی کے پاس ہیں جن میں خزانہ ‘اطلاعات سمیت اہم وزارتوں میں خصوصی معاونین کے ذریعے کام چلاجارہا ہے کئی وزیروں کے پا س متعددوزارتوں کے قلمدان ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی وزارت کو وقت نہیں دے پاتا جس سے محکموں کی کارکردگی متاثرہورہی ہے. پشاور کے سنیئرصحافی عدنان خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی راہنما شاندانہ گلزار تسلیم کرتی ہیں کہ صوبے میں جوکچھ ہورہا ہے وہ گڈگورنس نہیں ہے‘فنڈزنہ ملنے کی وجہ سے صوبے کی یونیورسٹیاں بند ہونے کے قریب ہے جبکہ مشیر اطلاعات حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سوال کے جواب پر کہتے ہیں لوگوں نے ہمیں ووٹ کام کے لیے نہیں بلکہ عمران خان کو جیل سے نکالنے کے لیے دیا ہے .

انہوں نے کہا کہ صوبے کے پسماندہ ضلع کوہستان میں 40ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے‘کلرک کے گھر سے اربوں روپے نکلتے ہیںاس سے زیادہ برا حال صوبے کے بڑے اضلاع میں ہے‘2024کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی صوبائی حکومت نے آج تک کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا بلکہ پرویزخٹک حکومت کے زیرالتوامنصوبوں پر کام شروع نہیں ہوسکا. انہوں نے بتایا کہ حال میں وزارت صحت میں ڈاکٹروں کی بھرتیاں ہوئی ہیں جن میں گولڈمیڈل حاصل کرنے والے امیدواروں کی درخواستیں بغیرٹھوس وجہ بتائے مستردکردی گئی ہیں پشاور بی آر ٹی منصوبہ ابھی تک سبسڈی چل رہا ہے حالانکہ اس منصوبے کو بتدریج منافع بخش بنایا جانا تھا.

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ صحت کارڈعمران خان کا اچھا منصوبہ تھا تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے اسے بھی داغدار کردیا ہے ‘دوردرازعلاقوں سے علاج کے لیے پشاور آنے والے نیم خوانداہ دیہاتیوں کومعمولی بیماریوں پر بھی ہسپتالوں میں ہفتوں کے حساب سے داخل کرلیا جاتا ہے تاکہ انشورنس کمپنی سے زیادہ سے زیادہ رقم کا بل کلیم کیاجاسکے.

عدنان خان مشرق نیوزپشاور سے وابستہ ہیں تاہم ان کا تعلق مالاکنڈ سے ہے ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال بھی سوات میں سیاحت کے لیے آیا ایک پورا خاندان سیلاب میں بہہ کر ہلاک ہوا تھا مگر حکومت نے اقدامات کیئے‘سیف اللہ جھیل میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعدجب ریسکیو 1122کو کال کی گئی تو ان کے پاس صرف ایک ہی ایمبولینس موجود تھی جس کا راستے میں پیٹرول ختم ہوگیا اور کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے.

انہوں نے کہاکہ سیف اللہ جھیل معاملے پر بھی وزیراعلی نے ایک روایتی سے کمیٹی بنائی ہے مگر ڈپٹی کمشنر سمیت ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی‘انہوں نے کہاکہ سوات میں تحریک انصاف کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کے درمیان زمینوں اور پراپرٹیزکی وجہ سے رسہ کشی جاری رہتی ہے‘حال ہی میں سوات میں نیلام کی جانے والی وزیرہاﺅس کی عمارت بھی ایک رکن صوبائی اسمبلی کو دی گئی ہے ‘ایک اور سوال کے جواب میں عدنان خان نے کہاکہ کمراٹ پراجیکٹ عمران خان کا ویژن تھا اور وہ اسے ایک جدید سیاحتی علاقہ بنانا چاہتے تھے تاہم اس وقت کمراٹ پراجیکٹ تقریبا مکمل طورپر بندپڑا ہے‘کمراٹ کو جن بڑی ہائی ویزکے ساتھ جوڑا جانا تھا ان رابط سڑکوں کی تعمیر نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے کمراٹ کا سفرانتہائی دشوار گزار ہے. 
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات