موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک میں عدم استحکام، بے یقینی اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

ملک کو درپیش سنگین امن و امان کے بحران کا مستقل اور پائیدار حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کی حقیقی نمائندہ اور عوامی قوت رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کیا جاتا،بیان

جمعہ 10 جولائی 2026 20:45

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2026ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، ضلعی سرپرستِ اعلیٰ مفتی محمد روزی خان، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حافظ دوست محمد مدنی، مولانا عبدالبصیر، حافظ رشید احمد، حاجی محمد شاہ لالا، مفتی نیک محمد فاروقی، حاجی نعمت اللہ خان اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں امن، استحکام اور مذاکرات کی باتیں کرنے والے حکمران بدقسمتی سے اپنے ہی ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سنگین امن و امان کے بحران کا مستقل اور پائیدار حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام کی حقیقی نمائندہ اور عوامی قوت رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کیا جاتا۔ رہنماؤں نے کہا کہ جعل سازی، دھاندلی اور فارم 47 جیسے متنازع طریقوں کے ذریعے مسلط کیے گئے غیر معروف نمائندے نہ عوام کا اعتماد رکھتے ہیں اور نہ ہی قومی مسائل کے حل کی صلاحیت، اسی وجہ سے حکومت ہر محاذ پر ناکامی کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک میں عدم استحکام، بے یقینی اور بدامنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو درحقیقت حکومتی نااہلی اور ناکام حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے حقیقی عوامی قیادت کو قومی فیصلوں میں شریک کیا جائے، کیونکہ ملک میں دیرپا امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا راستہ صرف عوام کے اعتماد اور آئینی و جمہوری اصولوں سے ہو کر گزرتا ہے۔