Live Updates

اسپین کو رواں سال 10 کروڑ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی توقع

DW ڈی ڈبلیو اتوار 12 جولائی 2026 16:00

اسپین کو رواں سال 10 کروڑ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی توقع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 جولائی 2026ء) اسپین کے وزیرِ سیاحت یوردی ایرےاُو نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو رواں سال ملک میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 10 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

فرانس کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے والا ملک اسپین گزشتہ سال 96.8 ملین غیر ملکی سیاحوں کی میزبانی کر چکا ہے، جو ایک نیا ریکارڈ تھا اور 2024 کے مقابلے میں 3.2 فیصد زیادہ تھا۔

ہسپانوی حکومت کے مطابق جون سے ستمبر کے دوران سیاحت سے معیشت میں تقریباً 73 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہو گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحت بدستور اسپین کی اقتصادی ترقی کا اہم محرک بنی ہوئی ہے اور اسی کے باعث ملک کی معاشی کارکردگی دیگر یورپی ممالک سے بہتر رہی ہے۔

(جاری ہے)

حکومتی اندازوں کے مطابق رواں موسمِ گرما میں تقریباً 43 ملین بین الاقوامی سیاح اسپین کا رخ کریں گے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا فائدہ

حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود سیاحوں کی آمد میں اضافہ جاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بدامنی کے باعث متعدد سیاحوں نے اس خطے کے بجائے جنوبی بحیرۂ روم کے ممالک، خصوصاً اسپین، کا رخ کیا ہے۔

وزیرِ سیاحت نے کہا کہ چند ماہ قبل خدشہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کرے گی، تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام تر حالات کے باوجود سیاحت نے غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے۔

حکومت کے مطابق یکم اکتوبر تک اسپین آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد تقریباً 8 کروڑ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو مارچ میں لگائے گئے سرکاری اندازوں سے بھی بہتر ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ساحلی علاقوں میں روایتی سیاحت میں اضافہ جاری رہے گا، تاہم ملک کے اندرونی اور دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ترقی متوقع ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اگست میں ہونے والا مکمل سورج گرہن ہے، جو شمالی اور دیہی اسپین کے وسیع علاقوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔

وزیرِ سیاحت کے مطابق سورج گرہن میں دلچسپی کے باعث کئی دیہی رہائشی مراکز پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاحوں کو کم معروف اندرونی علاقوں کا رخ کروانے سے ساحلی شہروں میں بڑھتے ہوئے ہجوم اور مقامی آبادی کے احتجاج میں بھی کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے علاقائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سیاحت کے بہتر انتظامات کریں کیونکہ مستقبل میں سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات