Live Updates

ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، امریکہ کے تازہ فضائی حملے

DW ڈی ڈبلیو اتوار 12 جولائی 2026 13:40

ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، امریکہ کے تازہ فضائی حملے
  • ایران کا خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ
  • امریکہ کے ایران پر تازہ فضائی حملوں کی تیسری لہر
  • ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا

ایران کا خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن، کویت، بحرین اور قطر میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

آئی آر جی سی (پاسدارانِ انقلاب) کے بیان کے مطابق یہ کارروائی ایران پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ کویت میں ایک امریکی فوجی ریڈار مرکز اور قطر میں العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

بیان میں مزید کہا گیا کہ العدید اڈے پر لڑاکا طیاروں کی مرمت کے ایک مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑوں کے لیے قائم لاجسٹک سپورٹ مراکز اور ایندھن فراہمی کے پلیٹ فارمز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

واضح رہے ایرانی دعوؤں پر تاحال امریکہ یا خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب قطر کی حکومت نے کہا ہے کہ حملوں کے دوران گرنے والے دھاتی ملبے اور شیل کے ٹکڑوں کے باعث ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا۔ ادھر بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے جبکہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔


امریکہ کا ایران میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں کی گئی۔

سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ان میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز اور ساحلی نگرانی کے مقامات شامل تھے۔

امریکی فوج کے مطابق رواں ہفتے ایران کے خلاف یہ تیسری بڑی کارروائی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر اب تک 300 سے زائد اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور بنانا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری جہاز رانی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور وہاں کشیدگی میں اضافہ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش پیدا کر رہا ہے۔


ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان اور ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے۔

ایرانی فوجی بیان کے مطابق یہ فیصلہ اس پیش رفت کے بعد کیا گیا جب کئی بحری جہاز اس اہم آبی گذرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ ایک وارننگ شاٹ مذکورہ جہازوں میں سے ایک کو لگا، جس کے نتیجے میں وہ رک گیا۔

بیان میں کہا گیا، ’’آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور خطے میں امریکہ کی مداخلتوں کے خاتمے تک بند رہے گی اور کسی بھی بحری جہاز کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

پاسدارانِ انقلاب نے مزید خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ’’نئی جارحیت‘‘ کا سخت جواب دیا جائے گا اور خطے میں دشمن کے مزید فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات