امریکہ سے مفرور پاکستانی شہری قطر سے گرفتار، میگا فراڈ کا الزام

ملزم عبداللہ انور نے 1 ارب ڈالر تقریباً 280 ارب پاکستانی روپے سے زائد کا فراڈ کیا، جس نیٹ ورک کا ملزم حصہ تھا اس نے گزشتہ 5 سالوں کے دوران امریکہ میں منظم طریقے سے غبن کیا؛ پراسیکیوشن کا عدالت میں مؤقف

Sajid Ali ساجد علی اتوار 12 جولائی 2026 15:41

امریکہ سے مفرور پاکستانی شہری قطر سے گرفتار، میگا فراڈ کا الزام
دوحہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2026ء) امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) اور انٹرپول نے قطر سے ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کرکے امریکہ منتقل کر دیا، 28 سالہ عبداللہ انور پر ایک ایسے عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام ہے جس نے مبینہ طور پر امریکی معیشت کو 1 ارب ڈالر تقریباً 280 ارب پاکستانی روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچایا، ملزم امریکہ میں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی فرار ہو کر پاکستان پہنچ گیا تھا۔

دوحہ نیوز کے مطابق ٹیکساس کے مشرقی ضلع کے یو ایس اٹارنی آفس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ ملزم عبداللہ انور نے ماضی میں امریکہ کے اندر مقدمے کی پیشی اور ضمانت کے دوران قانون کو دھوکہ دیا اور وہ خفیہ طور پر امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان منتقل ہوگیا تھا، امریکی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد حال ہی میں اسے قطر میں ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا، ملزم کو 10 جولائی 2026ء کو خصوصی پرواز کے ذریعے قطر سے ٹیکساس منتقل کیا گیا جہاں وہ اس وقت کولن کاؤنٹی میں حراست میں ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس کی وفاقی گرینڈ جیوری نے عبداللہ انور کے خلاف سنگین ترین دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کردی ہے، ملزم پر جن الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا ان میں چوری شدہ املاک کی منتقلی کی سازش، ڈاک کے ذریعے دھوکہ دہی، وائر فراڈ یعنی الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے غیر قانونی طور پر سرمائے کی منتقلی شامل ہے۔

سرکاری وکیلوں کا الزام ہے کہ جس نیٹ ورک کا ملزم حصہ تھا، اس نے گزشتہ 5 سالوں کے دوران امریکہ میں منظم طریقے سے 1 ارب ڈالر سے زائد کا غبن کیا، امریکی عدالت کی جانب سے فی الحال مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس کامیابی کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا، انہوں نے انکشاف کیا کہ عبداللہ انور کی قطر سے امریکہ منتقلی ایف بی آئی کی جانب سے صرف ایک ماہ کے اندر کی جانے والی 23 ویں غیر ملکی گرفتاری اور حوالگی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے بھی اس آپریشن کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی حساس گرفتاری قطر کی داخلی سکیورٹی فورس، ایف بی آئی اور انٹرپول کے مشترکہ چینلز کے ذریعے عمل میں لائی گئی، اس ہائی پروفائل کارروائی نے عالمی سطح پر دوحہ کے ایک معتبر اور قابلِ اعتماد پارٹنر ہونے کے امیج کو مزید مضبوط کیا، قطر سرحد پار جرائم کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی نظامِ انصاف کی حمایت جاری رکھے گا۔