دہلی سے لاہور تک: سڑکوں اور شہروں کے بدلتے نام اور نظریاتی پوزیشننگ

DW ڈی ڈبلیو اتوار 12 جولائی 2026 14:40

دہلی سے لاہور تک: سڑکوں اور شہروں کے بدلتے نام اور نظریاتی پوزیشننگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 جولائی 2026ء) حکومتیں صرف سڑکوں، شہروں، ریلوے اسٹیشنوں اور عوامی مقامات کے نام نہیں بدلتیں، بلکہ ان کے ذریعے اپنی تاریخ، شناخت اور نظریاتی سمت بھی متعین کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر کیا سرکاری حکم نامے واقعی عوامی یادداشت کو بدل سکتے ہیں؟ یا پھر لوگ اپنے شہروں کو انہی ناموں سے پکارتے رہتے ہیں جو ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں؟

یہ سوال آج جنوبی ایشیا میں ایک نئی معنویت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک طرف بھارت میں مسلم اور نوآبادیاتی ادوار سے وابستہ نام تیزی سے تبدیل کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف پاکستان، خاص طور پر پنجاب، تقسیم سے پہلے کے تاریخی نام دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حال ہی میں بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔

(جاری ہے)

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد سہروردی ایونیو کا نام بدل کر گوپال مکھرجی روڈ رکھ دیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ سڑک پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے نام سے منسوب ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سڑک دراصل ان کے چچا ڈاکٹر سر حسن سہروردی کے نام پر تھی، جو ایک ممتاز سرجن، ماہر تعلیم، بنگال قانون ساز کونسل کے رکن اور 1930 میں کلکتہ یونیورسٹی کے پہلے مسلم وائس چانسلر تھے اور تقسیم ہند سے قبل ہی وفات پا چکے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب نام کی تبدیلی نے تاریخی ابہام پیدا کیا ہو

ممبئی میں ایم اے روڈ کئی برسوں سے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اسے محمد علی جناح روڈ اور محمد علی جوہر سے منسوب سمجھ کر آئے دن اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

جبکہ بلدیاتی ریکارڈ کے مطابق یہ ایک متمول تاجر محمد علی روگے کے نام پر ہے۔

یہ نام آزادی سے قبل برطانوی دور میں رکھا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ انگریز سرکار جوہر یا جناح کے نام پر سڑک کا نام نہیں رکھ سکتی تھی۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سرکاری حکم نامے عوامی یادداشت کو نہیں بدل پاتے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال پاکستانی شہر لاہور اور دہلی میں سامنے آئی ہے۔

کچھ برس قبل اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے ایک بھارت صحافی کو ایک سینئر سرکاری افسر نےمشورہ دیا کہ لاہورمیں مولانا ظفر علی خان چوک جا کر مشہور بٹ کڑاہی کا ذائقہ چکھیں۔

خیر لاہور پہنچ کر انہوں نے متعدد رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے اس مقام کا پوچھا، مگر کوئی اسے نہیں جانتا تھا۔ آخرکار ایک مقامی دوست کو فون کیا، جس نے فوراً کہا، "لکشمی چوک پوچھیں۔"

ٹیکسی ڈرائیور ہنس پڑا اور پنجابی میں بولا، "تاں ایہہ گل کرنی سی نا، ظفر علی خان چوک کون لبھدا پھردا اے؟"

بھارت اور پاکستان میں یکساں صورت حال

یہ واقعہ صرف لاہور تک محدود نہیں۔

دہلی میں آج بھی اجمیری گیٹ سے متصل ریڈ لائٹ ایریا کو جی بی روڈ کہتے ہیں، حالانکہ اس کا سرکاری نام سوامی شردھا نند مارگ ہے جو سن ساٹھ کی دہائی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اسی طرح دہلی کا دل کہلانے والا کناٹ پلیس آج بھی عوام میں معروف ہے، اگرچہ سرکاری نقشوں میں اسے راجیو چوک لکھا جاتا ہے۔ نقشے بدل جاتے ہیں، مگر زبان اور یادداشت اپنی رفتار سے چلتی ہیں۔

دنیا بھر میں حکومتیں سیاسی تبدیلیوں کے بعد نام بدلتی رہی ہیں۔ روس میں انقلاب کے بعد زار شاہی کے نام مٹائے گئے، افریقہ میں نوآبادیاتی نام تبدیل ہوئے، مشرقی یورپ میں کمیونسٹ دور کی علامتیں ہٹائی گئیں، اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ دور کی یادگاروں کو نئی شناخت دی گئی۔

بی جے پی حکومت میں نام کی تبدیلی کا عمل تیز

بھارت میں 2014 کے بعد اس عمل میں نمایاں تیزی آئی۔

اورنگزیب روڈ کا نام ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام روڈ رکھا گیا، مغل سرائے جنکشن کو پنڈت دین دیال اُپادھیائے جنکشن بنا دیا گیا، راج پتھ کو کرتویہ پتھ کا نام دیا گیا، جبکہ ہال آف نیشنز کو منہدم کرکے اس کی جگہ بھارت منڈپم تعمیر کیا گیا۔

پاکستان نے بھی 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں اسلامائزیشن کے دور میں کئی ہندو، سکھ اور نوآبادیاتی نام تبدیل کیے۔

مگر اب صورت حال بدلتی دکھائی دیتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان کی پنجاب حکومت نے لاہور ہیریٹیج ایریا ریوائیول پراجیکٹ کی منظوری دی ہے، جس کے تحت کئی تاریخی نام بحال کیے جا رہے ہیں۔ بابری مسجد روڈ دوبارہ جین مندر روڈ، رحیم گلی پھر رام گلی، جبکہ فاطمہ جناح روڈ دوبارہ اپنے تاریخی نام کوئنز روڈ سے جانی جائے گی۔

سرکاری حکم نامے عوامی یادداشت کو نہیں بدل پاتے

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور کے بیشتر باشندوں نے سرکاری تبدیلیوں کے باوجود یہ نام کبھی چھوڑے ہی نہیں تھے۔

لاہور کے صحافی اور مصنف اشرف شریف کہتے ہیں، ''سرکاری فائلوں میں نام بدل گئے تھے، لیکن لوگوں کی زبان پر ہمیشہ لکشمی چوک، جین مندر روڈ اور دوسرے پرانے نام ہی رہے۔‘‘

پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ارشاد احمد بھی اسی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ''لاہور کی ثقافتی یادداشت بہت مضبوط ہے۔ یہاں لوگ حکومتوں کے جاری کردہ ناموں سے زیادہ اپنی تاریخی روایت پر یقین رکھتے ہیں۔

‘‘

تو آخر حکومتیں نام کیوں بدلتی ہیں؟

اشوکا یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر امیت جُلکا کے مطابق، ''نام تبدیل کرنا نسبتاً کم خرچ سیاسی عمل ہے، مگر اس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے حکومت یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ کن شخصیات اور کن تاریخی ادوار کو اپنی قومی شناخت کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔‘‘

ورثہ اور تاریخ کے ماہر سہیل ہاشمی کہتے ہیں، ''مقامات کے نام بدلنا دراصل نظریاتی پوزیشننگ ہے۔

بعض صورتوں میں ظالمانہ یا استعماری ماضی سے فاصلہ پیدا کرنا جائز بھی سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اس عمل کا مقصد کسی کثیرالثقافتی یا مشترکہ تاریخ کو مٹانا ہو تو معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔‘‘

ان کے مطابق بھارت میں اسلامی تاریخ، سلطنتوں اور مسلم حکمرانوں سے وابستہ ناموں کی جگہ بتدریج ایسے نام لائے جا رہے ہیں جو ہندو اساطیر، مقامی مذہبی روایات یا قوم پرستانہ بیانیے سے ہم آہنگ ہیں۔

''یہ صرف اتفاق نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت کی تشکیل نو کی ایک شعوری کوشش ہے۔‘‘

پاکستان کی فکری پختگی

اس کے برعکس پاکستان میں حالیہ رجحان اپنی متنوع تاریخ کو دوبارہ قبول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پروفیسر امیت جُلکا کے مطابق، ''پاکستان اب خود کو صرف تقسیم کے بعد وجود میں آنے والی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ایک قدیم تہذیبی روایت کے وارث کے طور پر بھی پیش کرنا چاہتا ہے۔

یہ ایک زیادہ پراعتماد قومی شناخت کی علامت ہے۔"

سہیل ہاشمی بھی اسے پاکستان کی فکری پختگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ''موہنجوداڑو، مہاراجہ رنجیت سنگھ، بھگت سنگھ یا جین اور ہندو ورثے کو تسلیم کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ تاریخ کو کاٹ کر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ قومیں اپنی پوری تہذیبی میراث کے ساتھ ہی مکمل ہوتی ہیں۔"

لیکن اس پوری بحث کا شاید سب سے اہم پہلو عوامی یادداشت ہے۔

سرکاری نقشے، سائن بورڈ اور نوٹیفکیشن بدل سکتے ہیں، مگر زبان، روزمرہ بول چال اور اجتماعی حافظہ کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

لاہور میں آج بھی لوگ لکشمی چوک ہی کہتے ہیں۔ دہلی میں بیشتر شہری اب بھی کناٹ پلیس اور جی بی روڈ ہی بولتے ہیں۔

شاید اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتیں نام تو بدل سکتی ہیں، مگر لوگوں کی یادداشت نہیں۔ اور یہی اجتماعی یادداشت آخرکار طے کرتی ہے کہ کسی شہر کا اصل نام کیا ہے۔