Live Updates

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

موساد کے سربراہ خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے، ایک کانفرنس کے دوران موساد سربراہ نے احمدی نژاد سے ملاقات کی، اسرائیل نے احمدی نژاد کے رہائش اور سفر کے اخراجات ادا کیے؛ امریکی اخبار کی رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 جولائی 2026 11:10

سابق ایرانی صدر احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے، ..
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد مبینہ طور پر اسرائیل کے 'رجیم چینج' منصوبے کا حصہ تھے اور وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی 'موساد' کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے، احمدی نژاد کی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا سے خفیہ ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔ امریکی اخبار نے امریکی حکام اور دیگر باوثوق ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے کئی سالہ منصوبے کے تحت اسرائیل نے محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی سرگرم کوششیں کیں، موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا خود احمدی نژاد کو ایران کے اقتدار میں واپس لانے کی مہم کی نگرانی کر رہے تھے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق 2024ء میں ہنگری نے احمدی نژاد کو بڈاپسٹ میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، یہ دعوت نامہ دراصل موساد کے سربراہ کو ملاقات کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، جہاں ڈیوڈ برنیا نے احمدی نژاد سے براہِ راست ملاقات کی، اسرائیل نے احمدی نژاد کی رہائش اور سفر کے تمام اخراجات ادا کیے اور اسرائیلی حکام نے بیرونِ ملک مختلف مقامات پر ان سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ خفیہ مہم اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے ہی دن احمدی نژاد کے سکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنایا گیا، اس کارروائی کا مقصد احمدی نژاد کو ان کی مبینہ 'نظربندی' سے آزاد کرانا تھا، حملے کے فوری بعد ایک گاڑی احمدی نژاد کو لے کر نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل ہوگئی، تاہم بعد میں وہ اسرائیل کے انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کے اس منصوبے سے مایوس ہوگئے اور وہ محفوظ مقام چھوڑ کر چلے گئے۔

اسرائیلی اخبار 'ہارٹز' کی ایک الگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موساد کا یہ رجیم چینج منصوبہ سال 2022ء میں شروع کیا گیا تھا، اگرچہ 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی غزہ جنگ کے باعث یہ منصوبہ کچھ عرصے کے لیے متاثر ہوا لیکن جنگ کے عروج کے دوران اس پر کام مزید تیز کر دیا گیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ 2013ء میں صدارت چھوڑنے کے بعد سے احمدی نژاد کا ایرانی حکومت کے ساتھ تعلق ہمیشہ پیچیدہ رہا، انہیں تین مرتبہ صدارتی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا، جس کے بعد وہ ایرانی حکام کے سخت ناقد بن گئے، انہوں نے اعلیٰ قیادت پر بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے الزامات لگائے اور خود کو عام ایرانی عوام کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہوئے معتدل مؤقف اپنانا شروع کردیا، تاہم انہیں یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کسی بیرونی شخص کو ایران پر مسلط کرسکتے ہیں جس سے ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ سیاسی پابندیوں کے باوجود احمدی نژاد سپریم لیڈر کو مشورے دینے والی ایران کی ایک اعلیٰ کونسل کے رکن رہے اور جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل فروری میں ہونے والی میٹنگ میں بھی شریک ہوئے، لیکن اب ان کی موجودہ صورتحال انتہائی مبہم ہے، انہیں آخری بار 6 جولائی کو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں مختصر وقت کے لیے دیکھا گیا جہاں وہ چہرے پر ماسک اور بھاری کوٹ پہنے محافظوں کے سخت حصار میں تھے، قوی امکان ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سے مبینہ تعلقات کے شبہے میں وہ اس وقت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی تحویل میں ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات