پائیدار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر جدید مہارتوں سے لیس نوجوانوں ہی کے ذریعے ممکن ہے ، سردارایازصادق

منگل 14 جولائی 2026 19:27

پائیدار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر جدید مہارتوں سے لیس نوجوانوں ہی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جولائی2026ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لہٰذا انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے فنی، تکنیکی اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی مسابقت کے لئے ناگزیر ہے، آج ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور وہی قومیں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو علم، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر رہی ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار نوجوانوں کی مہارتوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو ہر سال 15 جولائی کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ رواں سال نوجوانوں کی مہارتوں کے عالمی دن کا موضوع مشترکہ مستقبل کے لئے مہارتیں اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پائیدار اور خوشحال مستقبل کی تعمیر جدید مہارتوں سے لیس نوجوانوں ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور تخلیق کا دور ہے، اس لئے نوجوانوں کو ان شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی نوجوان ملک کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب گامزن کرنے اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

سپیکر سردار ایاز صادق نے حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو فنی، پیشہ وارانہ اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے تعلیمی اداروں، فنی تربیتی مراکز، صنعتوں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان نوجوانوں میں فنی و پیشہ وارانہ تعلیم، جدید مہارتوں، تحقیق اور جدت کے فروغ کے لئے مؤثر قانون سازی کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا ینگ پارلیمنٹرینز فورم نوجوانوں میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لئے مختلف تربیتی ورکشاپس اور آگاہی پروگراموں کے ذریعے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنرمند، باصلاحیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی پاکستان کو پائیدار ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے نوجوانوں کی مہارتوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ جدید دنیا میں کامیابی کا انحصار محض تعلیمی اسناد پر نہیں بلکہ عملی، فنی اور جدید مہارتوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی اور معاشی خوشحالی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمان نوجوانوں میں ہنرمندی، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے مؤثر قانون سازی کا عمل جاری رکھے گی۔