سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس

جمعرات 16 جولائی 2026 19:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 جولائی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، کابینہ ڈویژن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ٹیلی کام کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ای سم کو ایک موبائل ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں منتقل کرنے کے موجودہ طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اس وقت مختلف ٹیلی کام کمپنیاں مختلف پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث ای سم کی منتقلی محدود تعداد میں ممکن ہے تاہم پی ٹی اے ایک یکساں پالیسی کو حتمی شکل دے رہا ہے جس کے تحت صارفین کو کیو آر کوڈ کے ذریعے بلا معاوضہ دس مرتبہ تک ای سم منتقل کرنے کی سہولت فراہم ہوسکے گی۔

(جاری ہے)

کمیٹی کے اراکین نے ٹیلی کام شعبے میں بڑھتے ہوئے انضمام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسابقت میں کمی اور صارفین پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ پی ٹی اے نے موقف اختیار کیا کہ ٹیلی کام شعبہ بدستور مسابقتی اور ڈی ریگولیٹڈ ہے اور مسابقت میں اضافے سے مستقبل میں ای سم سے متعلق اخراجات میں مزید کمی متوقع ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ صحت مند مسابقت کو یقینی بنایا جائے تاکہ صارفین کو سستی اور معیاری خدمات کی فراہمی جاری رہے۔

کمیٹی نے اپنی سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اوگرا سے بریفنگ بھی لی۔ اوگرا نے بتایا کہ مبینہ گیس لیکیج کی بنیاد پر گیس میٹر اتارنے سے متعلق مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ اوگرا نے وضاحت کی کہ میٹر سے گزرنے کے بعد گیس لیک ہونے کی ذمہ داری صارف پر عائد ہوتی ہے۔ کمیٹی نے صارفین کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی کہ سمارٹ میٹرنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تاکہ گیس کے ضیاع میں کمی آئے اور صارفین کو غیر ضروری مشکلات سے بچایا جا سکے۔

چیئرمین کمیٹی نے ایس این جی پی ایل میں انتظامی خامیوں کو دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ سابقہ ہدایات کی روشنی میں اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد قیمتوں کے فرق کی ادائیگی سے متعلق دستاویزی تقاضوں میں نرمی کی ہے۔ کمیٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں تاکہ ان کی مالی وسائل برقرار رہیں۔

کمیٹی نے پرائیویٹ ممبر بل ’’فیڈرل پبلک سروس کمیشن بل 2026‘‘ کا بھی جائزہ لیا جو سی ایس ایس کوٹہ کی ازسرِ نو تقسیم سے متعلق ہے۔ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سی ایس ایس کوٹہ کے نظام میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ بل پیش کرنے والے رکن کی عدم موجودگی کے باعث چیئرمین کمیٹی نے اس پر مزید بحث کو موخر کر دیا۔

فائیو جی سروسز کے اجراء کے حوالے سے کمیٹی نے سپیکٹرم نیلامی کے بعد ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم اراکین نے موبائل ٹاورز کی فروخت سے متعلق اطلاعات پر وضاحت طلب کی اور اس امر پر زور دیا کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی توسیع شہریوں کے املاک کے حقوق پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے۔

پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ لائسنس کی شرائط کے تحت اب تک 499 فائیو جی سائٹس نصب کی جا چکی ہیں اور ٹیلی کام کمپنیاں رواں سال کے اختتام تک بڑے شہری علاقوں میں نمایاں فائیو جی کوریج فراہم کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔ صارفین کی فائیو جی کی جانب منتقلی سے موجودہ فور جی سروسز کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ 56 لاکھ فائیو جی سے ہم آہنگ موبائل ڈیوائسز موجود ہیں، جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ صارفین کے لیے فائیو جی ڈیوائسز کی دستیابی اور استطاعت کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔موبائل فونز پر عائد ٹیکس کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جبکہ پی ٹی اے کو اس حوالے سے کوئی اختیار حاصل نہیں۔ حکام نے بتایا کہ تقریباً 92 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر اسمبل کیے جاتے ہیں اور درآمدی ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں جبکہ صرف 8 فیصد فونز درآمد کیے جاتے ہیں جن پر متعلقہ ڈیوٹیز عائد ہوتی ہیں۔

کمیٹی نے شاہراہوں، موٹرویز اور دیگر پسماندہ علاقوں میں موبائل سروس کے ناقص معیار اور کمزور کوریج کا بھی جائزہ لیا۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے تعاون سے نیٹ ورک کوریج میں توسیع اور بلائنڈ سپاٹس کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ موبائل ٹاورز کی لائیو مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے جبکہ اوپن سورس مانیٹرنگ کے طریقہ کار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مکران کوسٹل ہائی وے پر نیشنل رومنگ کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ موٹرویز پر بھی اسی نوعیت کے انتظامات زیر غور ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے کے لیے ریڈیو پر مبنی مواصلاتی نظام پر کام جاری ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی اے نے دور دراز اور غیر خدمات یافتہ علاقوں میں رابطے بہتر بنانے کے لیے لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز پیش کی۔

نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران سروس کے معیار سے متعلق خلاف ورزیوں پر ٹیلی کام کمپنیوں کو مجموعی طور پر 4 ارب 30 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ کمیٹی کو نیٹ ورک کی کارکردگی کو متاثر کرنے والے عوامل جن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، امن و امان کی صورتحال اور فائبر آپٹک کیبلز کے بار بار کٹنے کے واقعات شامل ہیں، کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی نے ان صورتوں میں سم کے اجراء کے موجودہ طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جہاں بائیومیٹرک تصدیق کامیاب نہیں ہوتی۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ اس وقت طبی سرٹیفکیٹ یا نادرا کی تصدیق کی بنیاد پر تین مخصوص زمروں میں استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ نادرا اور ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے متبادل تصدیقی طریقہ کار جن میں ریٹینا سکیننگ اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے چہرے کی شناخت شامل ہے، متعارف کرایا جائے اور غیر قانونی سموں کے اجراء کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔