Live Updates

ٹرمپ ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے،امریکی میڈیا

زیر غور اختیارات میں ایران کی جوہری تنصیبات پر نئے حملے کرنا بھی شامل ہے،رپورٹ

ہفتہ 18 جولائی 2026 11:53

ٹرمپ ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے،امریکی میڈیا
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی حملوں کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس غور و فکر میں دوبارہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امکان بھی شامل ہے۔ یہ غور ممکنہ شدت پسندی کی تیاری کے لیے اسرائیل کو درجنوں فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے بھیجے جانے کے ساتھ ہی کیا جارہا ہے۔

امریکی ویب سائٹ نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے نقل کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو مزید ایندھن بھرنے والے طیارے بھیجنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف مہم کو وسعت دینے کا فیصلہ ہونے کی صورت میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی مدد کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہائوس کے سچویشن روم میں ایک میٹنگ کے دوران کئی نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ لینے کے بعد آبنائے ہرمز کے گرد مرکوز موجودہ حملوں سے زیادہ وسیع پیمانے پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

امریکی حکام نے مزید کہا کہ زیر غور اختیارات میں سے ایک ایران کی جوہری تنصیبات پر نئے حملے کرنا ہے تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو مزید گہرائی میں دفن کیا جا سکے۔ اس کا مقصد مستقبل میں ان تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے امکانات کو کم کرنا ہے۔رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کے بینک کو وسعت دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاہم ان اضافی مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کا انکشاف نہیں کیا گیا جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے حوالے سے وائٹ ہائوس یا امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی اسرائیل نے باضابطہ طور پر ایندھن بھرنے والے طیاروں کی وصولی کا نوٹس ملنے کا اعلان کیا ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات