ٹی ایل پی کے انٹراپارٹی انتخابات غیرآئینی قرار، الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان کرین واپس لےلیا

تحریک لبیک الیکشن ایکٹ2017 کی دفعہ209 کے تقاضے پورے نہ کرسکی، الیکشن کمیشن کا فیصلہ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 20 جولائی 2026 21:01

ٹی ایل پی کے انٹراپارٹی انتخابات غیرآئینی قرار، الیکشن کمیشن نے انتخابی ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 20 جولائی 2026ء ) تحریک لبیک کے انٹراپارٹی انتخابات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 7 صفحات پر مشتمل ٹی ایل پی کے انٹراپارٹی سے متعلق فیصلہ سنا دیا ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ تحریک لبیک الیکشن ایکٹ2017 کی دفعہ209 کے تقاضے پورے نہ کرسکی۔

فیصلے کے مطابق ٹی ایل پی کے انٹرا پارٹی الیکشن آئین کے مطابق نہیں ہیں۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق دستاویزات کو مسترد کردیا اور انتخابی نشان کرین واپس لے لیا گیا ہے۔ یاد رہے 08 جولائی2026ء کو الیکشن کمیشن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)کے انٹرا پارٹی الیکشنز سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

(جاری ہے)

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی۔

دوران سماعت، اسپیشل سیکرٹری پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ ٹی ایل پی جی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہو گیا ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ تحریری جواب پر کس کے دستخط موجود ہیں اسپیشل سیکرٹری پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ تحریری جواب پر بلال قادری کے دستخط موجود ہیں، بلال قادری کو پارٹی کا مستقل الیکشن کمشنر درج کیا گیا ہے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ پارٹی کا امیر اس وقت کون ہے، کس نے الیکشن کمشنر کو اختیار دیا اسپیشل سیکرٹری پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ دسمبر 2025 میں عہدیداروں کی معیاد ختم ہوئی تھی، اس وقت کوئی امیر نہیں، تحریری جواب میں کہا گیا کہ کئی مرتبہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی کوشش کی، تحریری جواب کے مطابق پارٹی کے دفاتر سیل کر دیے گئے جس کی وجہ سے الیکشن نہیں ہو سکے۔

ٹی ایل پی حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اس وقت کالعدم جماعت ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کس کی یہاں نمائندگی کر رہے ہیں وکیل نے جواب دیا کہ میں چیئرمین الیکشن اتھارٹی بلال قادری کی نمائندگی کر رہا ہوں۔چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے یہ واضح رہے کہ ہم اس وقت آپ کو بطور وکیل نہیں سن رہے، آپ پہلے ہمیں اپنے وکالت نامے کے اختیار پر مطمئن کریں، ہم اپنے آرڈر میں لکھیں گے کہ آپ غیر متعلقہ شخص ہیں، گزشتہ سماعت میں آپ کی جانب سے فوکل پرسن عامر شہزاد پیش ہوئے تھے اور ہم نے فوکل پرسن کے حق دعوی کو مسترد کر دیا ہے، کیا اس وقت آپ کی جماعت کا کوئی امیر ہی وکیل نے بتایا کہ امیر ہے لیکن ان کو پیش نہیں کیا جا رہا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ اس کا مطلب ہے آپ کا امیر سے رابطہ نہیں ہی وکیل ٹی ایل پی نے بتایا کہ بالکل ایسا ہی ہے ہمارا امیر سے رابطہ نہیں ہے۔ ہمارے چیئرمین الیکشن اتھارٹی بلال قادری کو بھی اکتوبر 2025 میں گرفتار کر لیا گیا تھا، جون 2026 میں ضمانت پر رہائی کے بعد بلال قادری نے ٹی ایل پی کے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے تو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کے لیے توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی، کیا آپ نے کسی عدالتی فورم پر اس آرڈر کو چیلنج کیا تھا کیا آپ نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے سے 15 روز قبل الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا تھا وکیل ٹی ایل پی نے کہا کہ ہم نے آگاہ نہیں کیا تھا مگر حالات ایسے ہیں کہ اب آپ مکمل انصاف دیں، ہمیں کالعدم قرار دینے کا ابھی تک ڈیکلریشن نہیں دیا جا رہا، درخواست ہے انٹرا پارٹی الیکشنز تسلیم کریں۔

الیکشن کمیشن نے دلائل کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے انٹرا پارٹی الیکشن کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 17 جون کو 3 معاملات پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے فوکل پرسن راجا عامر کے کیس میں حق دعوی پر اعتراض کیا تھا۔ٹی ایل پی کے 28 دسمبر 2025 میں انٹرا پارٹی الیکشنز ہونے تھے، فوکل پرسن راجا عامر نے انٹرا پارٹی الیکشنز کیلئے ایک سال کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔