پاکستان سمیت دنیا دنیا بھر میں کل( 22 جولائی) عالمی یومِ آم منایا جائے گا

منگل 21 جولائی 2026 15:23

پنگریو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جولائی2026ء) پاکستان سمیت دنیا دنیا بھر میں کل( 22 جولائی) عالمی یومِ آم منایا جائے گا، جس کا مقصد آم کی غذائی افادیت، زرعی اہمیت، عالمی تجارت، کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور موسمیاتی تبدیلی کے اس قیمتی پھل پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اگرچہ یہ اقوام متحدہ کا سرکاری عالمی دن نہیں، تاہم زرعی، تجارتی اور باغبانی کے شعبوں میں اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے اور اس موقع پر مختلف ممالک میں تقریبات، نمائشوں، سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق آم، جسے دنیا بھر میں "پھلوں کا بادشاہ" کہا جاتا ہے، برصغیر کا قدیم پھل ہے اور آج ایک سو سے زائد ممالک میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

آم کی سینکڑوں اقسام عالمی منڈیوں میں فروخت ہوتی ہیں اور یہ کروڑوں افراد کے روزگار، زرعی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا میں آم کی پیداوار میں بھارت سرفہرست ہے، جبکہ چین، انڈونیشیا، پاکستان، میکسیکو، تھائی لینڈ، برازیل، بنگلہ دیش اور فلپائن بھی نمایاں پیداوار کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو، پیرو، برازیل اور تھائی لینڈ آم برآمد کرنے والے بڑے ممالک ہیں، جبکہ پاکستان اپنی منفرد خوشبو، ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی منڈی میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔پاکستان میں پنجاب اور سندھ آم کی پیداوار کے اہم مراکز ہیں۔ سندھڑی، چونسا، انور رٹول، لنگڑا، دسہری، سفید چونسا اور سرولی جیسی اقسام مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکہ، وسطی ایشیا اور دیگر عالمی منڈیوں میں خاصی مقبول ہیں۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید باغبانی، معیاری پیکنگ، کولڈ چین نظام، سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی غذائی معیار پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان آم کی برآمدات اور زرِ مبادلہ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت آم کی عالمی صنعت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ غیر معمولی گرمی، بے وقت بارشیں، ڑالہ باری، پانی کی قلت، خشک سالی اور نئی بیماریوں کے باعث کئی ممالک میں آم کی پیداوار اور معیار متاثر ہو رہا ہے۔

درجہ حرارت میں مسلسل اضافے سے آم کے پھول جھڑنے، پھل کا سائز کم ہونے اور قبل از وقت گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق آم وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای، غذائی ریشہ، پوٹاشیم اور دیگر اہم غذائی اجزا سے بھرپور پھل ہے، جو قوتِ مدافعت مضبوط بنانے، بینائی بہتر رکھنے، جلد کی صحت برقرار رکھنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تاہم انہوں نے ذیابیطس کے مریضوں کو آم اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔عالمی یومِ آم کے موقع پر زرعی ماہرین نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے، پانی کے بہتر انتظام، جدید زرعی تحقیق، بیماریوں کی مؤثر روک تھام اور پائیدار باغبانی کو فروغ دینے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق آم صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ عالمی زرعی معیشت، دیہی روزگار، غذائی تحفظ اور برآمدی تجارت کا اہم ستون ہے، جس کے تحفظ اور فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔