Live Updates

حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف7اگست کو یوم احتجاج ،مزار قائد سے ریلی نکالی جائے گی، منعم ظفر

6 اگست کو تمام اضلاع میں احتجاجی کیمپ،1500سے زائد مقامات پر کارنر میٹنگز اورریلیاں بھی نکالی جائیں گی ،ْامیرجماعت اسلامی کراچی صرف کراچی کے موٹر سائیکل سواروں سے روزانہ 53 کروڑ ، ماہانہ 16 ارب اور سالانہ 192 ارب روپے لیوی کے وصول کیے جارہے ہیں،قابض میئر کی نا اہلی ،53کروڑ روپے مختص کرنے کے باوجود نالوں کی صفائی نہ ہو سکی ،شدید بارش کی صورت میں شہر کے ڈوبنے کا خدشہ ہے ،پریس کانفرنس

ہفتہ 25 جولائی 2026 21:10

ْ کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ، ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی کے خلاف جمعہ7 اگست کو ملک بھر میں یومِ احتجاج کے سلسلے میں کراچی میں مزار قائد سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، اس سے قبل 6 اگست کو تمام اضلاع میں احتجاجی کیمپ او ر 1500 سے زائد مقامات پر کارنر میٹنگز جبکہ جے آئی یوتھ کے تحت ریلیاں نکالی جائیں گی۔

حکمران طبقہ تمام وسائل پر قابض ہے جبکہ اہل کراچی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ،پاکستان میں 10کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام پر ’’بھتہ ٹیکس‘‘ مسلط کر رکھا ہے اور پیٹرول کے ہر لیٹر پر 125 روپے تک لیوی وصول کی جا رہی ہے ، کراچی میں 42 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں اور ہر موٹر سائیکل سوار لیوی دینے پر مجبور ہے ۔

(جاری ہے)

حکومت صرف کراچی کے موٹر سائیکل سواروں سے روزانہ تقریباً 53 کروڑ ، ماہانہ 16 ارب اور سالانہ 192 ارب روپے وصول کر رہی ہے جو ناقابل برداشت معاشی بوجھ ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ لیوی کے نام پر بھتہ ٹیکس فوری طور پر ختم اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ گزشتہ روز کراچی میں مون سون کی بارش کا پہلا قطرہ گرتے ہی کے الیکٹر ک کے تقریباً 200 فیڈر ٹرپ کر گئے اور شہر کے مختلف علاقے اندھیروں میں ڈوب گئے جبکہ نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث اگر شدید بارشیں ہوئیں تو پورا شہر ڈوبنے کا خدشہ ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ایمرجنسی سروسز، ریسکیو اداروں اور تمام بلدیاتی نمائندوں کو فوری طور پر آن بورڈ لیا جائے۔نالوں کی صفائی کے لیے 53 کروڑ روپے مختص کیے گئے مگر شہر کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔ جگہ جگہ نالوں سے نکالا گیا ،کچرا دوبارہ انہی نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام مزید متاثر ہو رہا ہے۔ قابض میئر مرتضیٰ وہاب ٹاؤن چیئرمینوں کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار نہیں۔

ایک طرف عوام بنیادی طبی اور بلدیاتی سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت سائیکل ایمبولینس جیسے نمائشی منصوبوں میں مصروف ہے، جو مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک کی نجکاری اس وعدے کے ساتھ کی گئی تھی کہ شہریوں کو سستی، معیاری اور بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی لیکن آج یہ ادارہ کراچی کے عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے۔

نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا، نہ ترسیلی نظام بہتر بنایا گیا، جبکہ 18،18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے اور شہری بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ کراچی کے 50 فیصد سے زائد علاقے آج بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور شہری اربوں روپے خرچ کرکے ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کے فور منصوبے کے آگمینٹیشن ورک کو ورلڈ بینک کی جانب سے تین مرتبہ غیر معیاری قرار دے کر روکا گیا۔ نیپا سے حسن اسکوائر تک 2.7 کلومیٹر سڑک کو 50 روز میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اور 10 نومبر 2025 کو شروع ہونے والا یہ کام آج تک مکمل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔منعم ظفر خان نے کہا کہ دو روز قبل مواچھ گوٹھ میں 7 سالہ بچے عثمان کے کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والا المناک واقعہ صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے ،اسی مقام پر پہلے بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آچکا ہے، جہاں یوسی، ٹاؤن چیئرمین، ایم پی اے اور ایم این اے سب کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

گزشتہ سال بھی کراچی میں 19 افراد کھلے مین ہولز اور گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کہتی ہے کہ سندھ کا صحت کا نظام ایشیا میں سب سے بہتر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ بچوں کی تعداد 95 تک پہنچ چکی ہے۔ پرانی سرنجیں استعمال کی جا رہی ہیں اور عملہ بچوں کے مؤثر علاج کی صلاحیت نہیں رکھتا، جو انتہائی تشویشناک امر ہے انہوں نے کہا کہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کراچی کی سڑکیں تباہ کردی گئی ہیں، ڈسکو بیکری کے مقام پر اوور ہیڈ برج کی کوئی ضرورت نہیں، تمام متعلقہ اداروں کی رائے بھی یہ ہی ہے کہ وہاں صرف ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔

اس کے باوجود غیر ضروری انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز بنانے کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ کریم آباد انڈر پاس کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں منصوبہ شہریوں اور تاجروں کے لیے وبال جان بن چکا ہے ۔ یہ انڈر پاس نہیں بلکہ کھنڈر پاس ہے۔اس کے اطراف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور پورا علاقہ کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پریس کانفرنس میں سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی کراچی زاہد عسکری ، پبلک ایڈ کمیٹی کے سیکریٹری نجیب ایوبی ، نائب صدر عمران شاہد ، سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے ۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات