لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جولائی2026ء) مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ
وزیراعظم محمد
شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت تیزی سے استحکام کی جانب گامزن ہے
،زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب
ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب
ڈالر تک پہنچ گئے
،بجٹ میں تنخواہ دار طبقے و صنعت کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے،متعدد اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل جاری ہے،ٹیکس نظام کو فیس لیس بنانے کیلئے نیا آپریٹنگ ماڈل نافذ کیا جارہا ہے، پائیدار اقتصادی ترقی کا حصول ہمارا ہدف ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی
ہوٹل میں بینک اسلامی کے زیر اہتمام
پاکستان کا اقتصادی منظرنامہ مالی سال 2027 اور اس کے بعد کے عنوان سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بہتری کی جانب گامزن ملکی
معاشی اشاریوں، جاری ساختی اصلاحات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے حکومت کے روڈ میپ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم
شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت تیزی سے استحکام کی جانب گامزن ہے
،زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب
ڈالر سے بڑھ کر 18 ارب
ڈالر تک پہنچ گئے، سال 2023 میں درپیش چیلنجز ، اندرونی سیاسی بے یقینی اور بیرونی دبائو کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.2 فیصد رہی تھی تاہم موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کی بدولت
معاشی نمو میں کافی بہتری آئی ہے اور مالی سال 2026 میں یہ شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا اور
پاکستان کی معیشت کا حجم تقریبا 452 ارب
امریکی ڈالر تک پہنچ گیا،
مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں برقرار رکھنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حالیہ
امریکی ٹیرف اقدامات،
سیلاب اور علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مالی سال 2026 بھی ایک مشکل سال رہا تاہم معیشت نے مضبوط لچک کا مظاہرہ کیا اور زراعت، صنعت اور خدمات سمیت تمام بڑے شعبوں میں بہتری
ریکارڈ کی گئی۔ میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ، جو 2022 میں جی ڈی پی کے تقریبا 8 فیصد کے برابر تھا، کم ہو کر تقریبا ایک فیصد رہ گیا ہے، جبکہ کرنٹ اکائونٹ کی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ
معاشی اصلاحات کو پائیدار نتائج دینے میں وقت درکار ہوتا ہے تاہم اب ملک کی
معاشی سمت مسلسل بہتری کی عکاسی کر رہی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ
پاکستان کے
زرمبادلہ کے ذخائر 2023 میں 3 ارب
امریکی ڈالر سے بڑھ کر تقریبا 18 ارب
امریکی ڈالر ہو گئے ہیں، ماضی کے برعکس اس بار
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ملک کے قرضوں کے حجم میں اضافے کے بغیر حاصل کیا گیا ہے، جو معیشت کے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی عکاسی ہے۔
برآمدی شعبے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی
برآمدات 4.6 ارب
امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے رقوم میں اضافہ،صنعتی پیداوار میں مسلسل توسیع، نجی شعبے اور ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف
پاکستان (ایس ای سی پی) میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کی تعداد 300,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے 4.5 فیصد کی شرح سود پر رعایتی فنانسنگ کی منظوری دی ہے، جو موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، مالی سال 2026-27 کے
بجٹ میں اعلان کردہ توانائی کی لاگت میں کمی، ٹیکسوں میں کمی اور برآمد کنندگان کے ٹرن اوور ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات سے برآمدی مسابقت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی-انہوں نے کہا کہ
ٹیکنالوجی، آئی ٹی، کان کنی، قیمتی پتھر اور ایس ایم ایز کے شعبے مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں، جن میں بہتری لاکر ملکی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے گا۔
ملکی
معاشی پیش رفت کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی کا حوالہ دیتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، فِچ ریٹنگز اور موڈیز سمیت معروف عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے
پاکستان کے
معاشی منظرنامے میں بہتری کو تسلیم کیا ہے، ایس اینڈ پی نے
پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دی ہے، جو نو سال میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کی بہتری ہے اور حکومت کے اصلاحاتی پروگرام پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے
معاشی کارکردگی بہتر بنانے، اداروں کو مضبوط کرنے اور کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے 11 بڑے اصلاحاتی پروگرام شروع کیے ہیں۔ انہوں نے
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی ای) کی کامیاب
نجکاری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب
بجلی کے شعبے میں بھی اصلاحات آگے بڑھا رہی ہے، جہاں 28
نجکاری کے معاملات زیر غور ہیں، جن میں
بجلی کی تقسیم
کار کمپنیوں (ڈسکوز) سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈا صرف
نجکاری تک محدود نہیں بلکہ اس کی کارکردگی میں اضافہ کرنے اور کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے جامع شعبہ جاتی اصلاحات بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نجی شعبہ سرمایہ کاری، جدت اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کر سکے۔مشیرخزانہ خرم شہزاد نے حکومت کے رائٹ سائزنگ اقدام پر پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاسکو اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) سمیت متعدد سرکاری اداروں کی تنظیم نو کا عمل جاری ہے۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ شفافیت بڑھانے، صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنے اور
ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جلد ایک نیا فیس لیس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرایا جائے گا۔حکومت کی مالیاتی ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کا
بجٹ تین بنیادی مقاصد، یعنی اقتصادی ترقی، عوامی ریلیف اور مالیاتی ذمہ داری، پر مبنی ہے،
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے، 500 ملین پاکستانی روپے تک منافع کمانے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے، تعمیرات اور زراعت کے شعبوں کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے، برآمد کنندگان کے ٹرن اوور ٹیکس میں کمی کی گئی ہے جبکہ
ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے اضافی معاون اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قومی صنعتی پالیسی اور درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہی ہے، ان اقدامات کا مقصد پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنانا، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا اور کاروباری اداروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہی- خرم شہزاد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ساختی اصلاحات، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کے ذریعے پائیدار اقتصادی نمو کے حصول کے ساتھ ساتھ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کے ثمرات بتدریج سامنے آتے رہیں گے اور ایک زیادہ مضبوط، مستحکم اور مسابقتی معیشت کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔ قبل ازیں سیشن کا آغاز بینک اسلامی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رضوان عطا کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ اس موقع پر لمز میں معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر
ڈاکٹر علی حسنین اور بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے پریزنٹیشنز دیں۔ بعد ازاں پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد ہوا۔