سندھ کی وحدت پر کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں، ڈاکٹر قادر مگسی

نئے صوبوں کی تجویز کو مسترد، وفاق کو آئین کے مطابق چلانے اور صوبوں کو مکمل آئینی حقوق دینے کا مطالبہ

جمعہ 31 جولائی 2026 21:40

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جولائی2026ء) سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش موجودہ سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا حل تاریخی قومی وطنوں کو تقسیم کرنے میں نہیں بلکہ وفاق کو آئین کی روح کے مطابق چلانے میں ہے، سندھ ایک تاریخی قومی وطن ہے، جس کی وحدت پر کسی بھی قسم کی مداخلت سندھ کے قومی وجود پر حملہ تصور کی جائے گی۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پاکستان مختلف قوموں کے تاریخی مادر وطنوں پر مشتمل ایک وفاق ہے، جس میں سندھ، بلوچستان، پنجاب، پختونخوا اور دیگر قومی اکائیوں کی اپنی الگ تاریخ، زبان، ثقافت، جغرافیہ اور قومی شناخت موجود ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وفاق کی مضبوطی تاریخی قومی اکائیوں کی برابری، آئینی حقوق اور حقیقی خودمختاری کے تحفظ میں ہے، نہ کہ انہیں کمزور یا تقسیم کرنے میں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی ناکامیوں، بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے ذمہ دار کرپٹ حکمران ہیں۔ نئے صوبے بنانے کے بجائے صوبوں کو آئینی حقوق، وسائل پر مکمل اختیار، حقیقی خودمختاری، شفاف حکمرانی اور چھوٹے صوبوں کے احساسِ محرومی کے خاتمے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ جب وفاق تمام قومی اکائیوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا، آئین پر مکمل عملدرآمد ہوگا، این ایف سی ایوارڈ اور کونسل آف کامن انٹرسٹس کو مؤثر بنایا جائے گا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی ہوگی، تب ہی ملک میں سیاسی استحکام اور پائیدار ترقی ممکن ہوگی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، پانی کی قلت، امن و امان اور معاشی بحران جیسے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں جیسے متنازع موضوعات سامنے لا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ کی وحدت، وسائل، دریاؤں، جزائر، سمندری وسائل اور قومی شناخت پر کسی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کی جائے گی اور ایسی ہر کوشش کے خلاف سندھ ترقی پسند پارٹی پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔