وفاقی وزیر داخلہ غیر آئینی بیانات پر مستعفی ہوں، نئے صوبے کی سندھ میں کوئی گنجائش نہیں، نثار کھوڑو

ہائبرڈ نظام اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات آئین سے متصادم ، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کا تسلسل ملکی استحکام کی ضمانت ہے، بزنس مین سعید ایس محمد کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس

ہفتہ 1 اگست 2026 18:35

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے وفاقی وزیر داخلہ کے ہائبرڈ نظام، موجودہ نظام کے خاتمے اور نئے صوبوں سے متعلق بیانات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ موجودہ نظام پر اعتماد نہیں رکھتے تو انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ہفتہ کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریق? کار موجود ہے اور کسی بھی صوبے کی تقسیم یا نئے صوبے کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر کسی نئے صوبے کی ضرورت ہے تو پنجاب میں ہے، جہاں ماضی میں اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آئین کے خلاف بیانات دینے والے قوم کے سامنے جوابدہ ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ اگر نظام کے "کولیپس" ہونے کی بات کرتے ہیں تو انہیں حکومت کا حصہ نہیں رہنا چاہیے، جبکہ اگر وہ ہائبرڈ نظام کی حمایت کرتے ہیں تو پھر پارلیمان میں بیٹھنے کا جواز بھی باقی نہیں رہتا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ افواجِ پاکستان کا نام لے کر غیر ضروری بے چینی پیدا کر رہے ہیں، حالانکہ افواج خود سیاست سے لاتعلقی کا واضح مؤقف دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے قومی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں پر چلایا جا رہا ہے، ایسے حالات میں 22 صوبے بنانے کی باتیں غیر سنجیدہ ہیں کیونکہ اس سے قومی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور پارلیمانی نظام کے استحکام میں ہے۔نثار کھوڑو نے ملکی سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں منتخب حکومتوں کو بار بار غیر آئینی اقدامات کے ذریعے ختم کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، آئین توڑا گیا، مارشل لا نافذ کیے گئے اور آئین کی شق 58(2)(ب) کے ذریعے منتخب حکومتوں کو برطرف کیا جاتا رہا، جس سے ملک کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ جلال پور کینال کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں زیر التوا ہے اور اجلاس ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔ایک سوال کے جواب میں نثار کھوڑو نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کو مصطفی کمال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔اس موقع پر معروف بزنس مین سعید ایس محمد نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، جس پر نثار کھوڑو نے انہیں پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی شمولیت کا خیر مقدم کیا۔