یوفون اور ٹیلی نار کا انضمام و نئی ٹیلی کام کمپنی کے قیام کی توثیق اور ایم ڈی ’’او پی ایف‘‘کی تعیناتی کی تحقیقات، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اہم فیصلے

جمعرات 6 اگست 2026 21:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے یوفون اور ٹیلی نار کے جلد انضمام کے بعد نئی ٹیلی کام کمپنی کے قیام کی توثیق کر دی ہے جبکہ اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن (او پی ایف) اور نیپرا میں بھاری تنخواہوں پر غیر قانونی تعیناتیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے مکمل بریفنگ اور ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

یہ اہم فیصلے سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے جس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، عبدالقادر، دلاور خان، ایمل ولی خان اور سلیم مانڈوی والا سمیت سیکریٹری کابینہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے شرکت کی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یوفون اور ٹیلی نار کا انضمام اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ایک نئی ٹیلی کام کمپنی قائم کی جائے گی۔

(جاری ہے)

انضمام کے بعد یوفون کی نیٹ ورک سروسز میں حالیہ خلل کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا۔پی ٹی اے نے نادرا کے’’پاک آئی ڈی‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے سمز جاری کرنے کے منصوبے پر پیشرفت سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ اس وقت ملک میں فعال سمز کی تعداد 21 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے برطانوی شہری اور نیب کے سزا یافتہ شخص کو 10 لاکھ روپے ماہانہ اور ایک دیگر افسر کو 25 لاکھ روپے تنخواہ پر ایم ڈی او پی ایف تعینات کرنے کے انکشاف پر کمیٹی نے کارروائی کرتے ہوئے تعنیاتی کی تمام دستاویزات و تفصیلات طلب کر لیں۔

کمیٹی نے تعیناتی کے چند ہفتوں بعد سے مسلسل بیمار اور غیر حاضر رہنے کے باوجود چیئرمین نیپرا کو 32 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت مانگ لی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو فیصلے سے آگاہ کیا کہ افسران کی ترقیوں کے لیے ہائی پاورڈ بورڈ کا اجلاس 4 سے 5 ہفتوں میں اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 6 سے 8 ہفتوں میں طلب کر لیا جائے گا۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی کہ کمیٹی کی جانب سے مانگی گئی تمام معلومات آئندہ اجلاس سے قبل لازمی پیش کی جائیں تاکہ سرکاری اداروں میں شفافیت، بلاامتیاز جوابدہی اور اصلاحات کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔