جیکب آباد میں سیپکو کا بجلی بحران بے قابو، خراب ٹرانسفارمر کئی روز سے بند

جمعہ 7 اگست 2026 20:00

جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اگست2026ء) جیکب آباد میں سیپکو کا بجلی بحران بے قابو، خراب ٹرانسفارمر کئی روز سے بند، بانو بازار کا ٹرانسفارمر ایک ہفتے سے خراب مرمت کے نام پر مبینہ 20 ہزار روپے فی ٹرانسفارمر وصولی،ایم پی اے حاجی شیر محمد مغیری کے مرمت کا خرچ اٹھانے کے اعلان کے باوجود سیپکو حکام کی مبینہ وصولیوں کا سلسلہ جاری، شدید گرمی میں شہری بجلی کے لیے خوار تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں سیپکو حکام کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے باعث مختلف علاقوں کے ٹرانسفارمر کئی کئی روز سے خراب پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری شدید گرمی میں بجلی کی فراہمی سے محروم ہو کر اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

دوسری جانب خراب ٹرانسفارمروں کی مرمت کے نام پر پرائیویٹ عملے کے ذریعے ہزاروں روپے وصول کیے جانے کی شکایات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

علاقہ مکینوں کے مطابق ٹرانسفارمر خراب ہونے کے بعد سیپکو کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے، تاہم بجلی کی بحالی کے لیے مبینہ طور پر مرمت کے اخراجات کے نام پر رقم طلب کی جاتی ہے صورتحال اس وقت مزید سوالیہ نشان بن گئی جب ایم پی اے حاجی شیر محمد مغیری کی جانب سے مختلف علاقوں کے خراب ٹرانسفارمرز کی مرمت کا خرچ اپنی جانب سے اٹھانے کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے باوجود علاقہ مکینوں سے مبینہ طور پر رقم وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیںبانو بازار کا ٹرانسفارمر ایک ہفتے سے جبکہ شاہ بھٹائی بازار چوک کا ٹرانسفارمر چار روز سے خراب پڑا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرانسفارمر کی مرمت کا خرچ ادا کرنے کا اعلان ہو چکا ہے تو پھر سیپکو عملے کی جانب سے 20 ہزار روپے فی ٹرانسفارمر کس مد میں وصول کیے جا رہے ہیں اس رقم کا حساب کون لے رہا ہے اور یہ رقم کہاں جمع ہو رہی ہے ،متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود کئی روز تک بجلی سے محروم رہنا اور پھر خرابی دور کرنے کے لیے الگ سے رقم طلب کیا جانا صارفین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

شہریوں نے چیف ایگزیکٹو سیپکو، وفاقی وزارتِ توانائی، نیپرا اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خراب ٹرانسفارمروں کی فوری مرمت کرائی جائے، نجی عملے کے ذریعے مبینہ وصولیوں کا نوٹس لیا جائے، 20 ہزار روپے فی ٹرانسفارمر کی شکایات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے۔