این ڈی ایم اے نے ملک کے بڑے دریائوں میں 8اور 9اگست کو پانی کے بہائو میں اضافے کا امکان ظاہر کردیا

مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل ،محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھے، عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہا عبور کرنے سے گریز کریں، ہدایت

ہفتہ 8 اگست 2026 23:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2026ء) این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجینسیز آپریشن سینٹر نے دریائوں میں پانی کے بہا اور ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ جاری کردیا ہے۔ این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم، کابل اور ستلج میں پانی کا بہا معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈی جی خان، راجن پور کے پہاڑی نالے اور نالہ لئی بھی معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔این ای او سی کے مطابق 8 سے 9 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاں میں پانی کے بہا میں اضافے کا امکان ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر، دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کے بہا کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

دریائے جہلم اور منگلا ڈیم سے بالائی علاقوں اور ملحقہ دریاں جبکہ دریائے کابل میں ادیزئی کے مقام پر بھی نچلے درجے کے بہا کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں چترال، اپر دیر، ایبٹ آباد، شانگلہ، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ آزاد کشمیر میں باغ اور کوٹلی، بلوچستان میں ژوب، موسی خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی جبکہ پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

این ای او سی کے مطابق راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور کے شہری علاقوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال بھی جاری کردی۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,548 فٹ اور ذخیرہ 97.94 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال یہ ذخیرہ 95.98 فیصد تھا۔

منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,205.2 فٹ اور ذخیرہ 62.99 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال یہ ذخیرہ 62.80 فیصد تھا۔این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہا کو عبور کرنے سے گریز کرنے اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو ندی نالوں اور دریاں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔این ڈی ایم اے نے عوام کو سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کرنے، شدید بارش یا کسی ممکنہ خطرے کی وارننگ کی صورت میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سیلابی پانی یا تیز بہا کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہائو میں اچانک شدید اضافہ ہوسکتا ہے، لہذا سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہا جائے اور تیز بہائووالے پانی کے ریلوں سے دور رہا جائے۔ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ سے بروقت معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔