پاکستا ن کی بقا و سلا متی اور استحکا م پاکستان کی ترقی والی ترجیحا ت پر عمل کر نا بہت ضرو ر ی ہے ،علامہ عبد اللہ نا صر رحما نی

اتوار 9 اگست 2026 21:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2026ء) پاکستان کا 1947؁ ء میں معر ض وجو د میں آ نا مسلما نو ں کے لئے ایک علیحدہ ریا ست کے تصو ر کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سر زمین میں بسنے والے کروڑو ں نفو س قدسیہ کو یہ بتا نا چا ہتا ہے کہ پاکستان کا قیا م اور اس کے مقا صد ہمارے لئے صر ف مشعل راہ نہیں بلکہ زندگی گزار نے کے زرین اصو ل بھی ہیں پاکستان کا قیام اور اس کے مقاصد ہما رے بانیا ن پاکستان اور مذہبی اسکا لر ز نے ہمیں پاکستان بننے سے پہلے بتا دیئے تھے ان خیا لات کا اظہا ر معہد السلفی کے رئیس الجامعہ اور جمعیت اہلحدیث سندھ کے امیر علامہ عبد اللہ ناصر رحمانی نے استحکام پاکستان سیمینا ر کے شر کا ء سے علمی ، تحقیقی اور تاریخی خطا ب کر تے ہو ئے کیا انہو ں نے کہا ہم ہرجشن آ زا دی پر فلک شفا ف نعرے لگا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ محمد الرسو ل اللہ لیکن ہم جب اپنے اسلامی تشخص سے لبر یز اپنی شناخت دوسرے لو گو ں کو کرو اتے ہیں تو اس میں نظریہ پاکستان اور اس کی اسا س کی نفی کر رہے ہو تے ہیں ۔

(جاری ہے)

علامہ عبد اللہ نا صر رحمانی نے کہا کہ یہ دوہر ی اور دوغلی پالیسی اور سیا ست ہمیں داغدا ر کر رہی ہے ہمیں چاہیئے کہ ہم اسلامی نظریا ت کے ساتھ ساتھ اپنے اسلا می اور جعغرافیائی مناظر کو دیکھ کر اپنی سرحدوں کی ہر ممکن پاسبانی کریں یہی ہماری قوت جس نے ہمیں آ ج پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مار شل کی مدبرانہ کوششوں سے سہہ فریقی دفاعی معاہدہ کی قوت بنا دیا ہے ۔

استحکام پاکستان سیمینا ر کے شر کا ء سے جامعہ کے مدیر علامہ محمد ابرا ہیم بھٹی نے کہا کہ ریاست میں ریاست کی دھجیا ں بکھیر نے والو ں کا ہمیں قلع قمع کر نا ہو گا جبکہ اس کے بر عکس ریاست کے حکمر انو ں اور ہمیں من حیث القو م ہر مید ان میں اور شعبہ میں شیر و شکر ہو کر ملک و قو م کے لئے صر ف و ہ کا م کر نا ہو نگے جس سے ہما ری سیا سی ذمہ داریاں ہر طر ح سے مکمل ہو سکیں انہو ں نے کہا کہ ہما رے ملک کے سیا سی قائد ین اور تمام مسالک کے علما ء کر ام کی یہ اہم ذمہ دار ی ہے کہ وہ عوام النا س کو اپنی اپنی ذمہ دا ر یو ں سے آ گا ہی فر اہم کریں تاکہ ہم پاکستان کے ایک اچھے شہر ی بن کر زندگی گزا ر سکیں ۔

سیمینا ر کے آ خر ی مقرر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کے مدیر الجا معہ پروفیسر عثما ن صفدر نے اپنا اہم خطا ب اور لیکچر دیتے ہو ئے کہا کہ ہمیں جن مسائل اور جن اندرونی اور بیرو نی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ہما رے ملک کے جہا ند ید ہ اور پڑھے لکھے حضر ات جو ملکی معاملا ت میں اور بیرو نی معاملا ت کو بغیر سوچے سمجھے اپنے ذاتی (Comments) دینے میں دیر نہیں کر تے انہو ں نے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ ہم ہر کا م جو ملکی اور بین الاقوا می سطح پر کام کرنا ہو اسے ہر طر ح سے چھان پھٹک کر پھر کریں تاکہ ہمارے ملک پاکستان پر کسی قسم کا کوئی دبا ئو نہ آ سکے انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک کو بیرو نی طا قتیں اس لئے کمزو ر کر نا چا ہتی ہیں کہ ہم ایک رب کے ما ننے والے ، ایک قرآ ن کو اور آ منہ کے لعل محمد عربی ﷺ کے پیرو کا ر ہیں ہم انہی کو اپنا سپریم لا ء سمجھ کر زندگی گزاریں تو ہم ہر ہر شعبے میں بہتر کار کر دگی کے خواب کو شر مند ہ تعبیر کر سکتے ہیں پروفیسر عثمان صفدر نے کہا کہ قرآن مجید دنیا کی تما م کتابو ں سے افضل ترین کتا ب ہے جس میں ہمارے ذاتی ، خاندانی ، معاشرتی اور ملکی مسائل کا مکمل حل مو جو د ہے ہمیں چا ہیئے کہ قرآ ن کو اپنا (Follower)بنائیں تو ہر مید ا ن میں کامیا ب ہو سکتے ہیں انہو ں نے کہا کہ ہما ر ی عسکر ی قیا دت ملک میں جا ر ی دہشتگر دی کا خاتمہ کر نے میں ہمہ تن مصر و ف ہے تاکہ انتہا پسند ی کو عام کر نے والے دشمن عنا صر کا خاتمہ کیا جا سکے ۔

پروفیسر عثما ن صفدر نے کہا کہ لسا نیت ، عصیت اور فرقہ واریت ہمارے معاشر ے کے وہ بت ہیں جنہیں تراشنے اور ختم کر نے کے لئے محمد عر بی ﷺ ،خلفا ئے راشدین ،اماما ن دین اور علما ئے حق ہر دو ر میں میدا ن عمل میں آتے رہے ہیں اور اب بھی میدا ن عمل میں مو جود ہیں انہوں نے کہا کہ محبت و اخو ت ، بھا ئی چا ر گی اور ملکی استحکا م وسلامتی کو عام کر نے میں ہمیں ہر وقت مصرو ف عمل رہنا چا ہیئے انہوںنے کہا کہ ہم دفاع وطن اور اپنے ملک کی اسلامی اور جعغرافیائی سرحدوں کی پاسبانی کرتے کرتے اپنی جان ،جان آ فرین کو سپر د کر سکتے ہیں لیکن اپنے پیا رے ملک پر کسی قسم کی آ نچ نہیں آنے دیں گے یہی جذبہ ایمانی پاکستان بنتے وقت ہمارے بانیا ن قوم اور علما ء اہلحدیث میں بدر جہ اتم مو جو د تھا ۔

پروگرا م کے اختتا م پر نائب مدیر پروفیسر محمد دا ئو د شاکر نے کلمات تشکر ادا کرتے ہو ئے جامعہ کا مختصر تعا ر ف کرو ایا اور اس کے تاریخی ،تعلیمی اور دعوت و تبلیغ کی کارکردگی پربھی بحث کی بعد ازا ں پروگر ام کے نگران اور نظامت کے فرائض انجا م دینے والے مو لا نا ارشد علی نے نہایت احسن اند از سے علما ء کر ام کو اسٹیج پر بلا کر شر کا ء سیمینا ر کو علما ء کرام کے خطا با ت سے مستفید ہونے کا اعلا ن کرتے رہے۔اس سیمینا ر میں خصوصاً سندھ کے تما م علا قو ں اور کر اچی بھر کے دینی مدا ر س کے شاگردان رشید اور علما ء کرا م نے خصو صی شر کت کی ۔