دھوئیں کے بغیر نشہ، پاکستان میں نکوٹین کی نئی مصنوعات نوجوانوں کیلئے بڑا چیلنج بن گئیں

ویپ، نکوٹین پاؤچز اور دیگر مصنوعات سے نوجوانوں میں نکوٹین کی لت بڑھنے کا خدشہ، ماہرین کا موثر ضابطہ کاری اور آگاہی مہمات کی ضرورت پر زور

منگل 11 اگست 2026 11:05

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 اگست2026ء) پاکستان میں روایتی سگریٹ کے ساتھ ویپ، ڈسپوزایبل الیکٹرانک سگریٹ اور نکوٹین پاؤچز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوانوں کی صحت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دھوئیں اور راکھ سے پاک نظر آنے والی یہ مصنوعات نکوٹین کی لت کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے والدین، اساتذہ اور متعلقہ اداروں کو اس رجحان کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

حالیہ طبی تحقیق کے مطابق نکوٹین ویپ استعمال کرنے والے نوعمر افراد میں نکوٹین کے استعمال کی مقدار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں نکوٹین داخل ہونے کے بعد بننے والے کیمیائی مادے کوٹینین کی مقدار نکوٹین کے استعمال کی شدت جانچنے کیلئے اہم حیاتیاتی علامت سمجھی جاتی ہے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران نوجوان ویپ صارفین میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں بھی نکوٹین کی مارکیٹ تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور نئی مصنوعات نوجوانوں کیلئے آسانی سے دستیاب ہورہی ہیں۔ ایک تحقیقی جائزے کے دوران اگست 2023 میں ملک کے چاروں صوبوں کے 9 اضلاع میں تمباکو فروخت کرنے والے 711 مقامات کا جائزہ لیا گیا، جہاں 56 مقامات، یعنی تقریباً 7.9 فیصد پر نکوٹین پاؤچز دستیاب پائے گئے۔ تحقیق کے مطابق یہ مصنوعات چاروں صوبوں کے مختلف علاقوں میں موجود تھیں جبکہ شہری علاقوں میں ان کی دستیابی نسبتاً زیادہ رہی۔

تحقیق میں مختلف ذائقوں اور مختلف مقدار میں نکوٹین رکھنے والے پاؤچز کی دستیابی کی بھی نشاندہی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق کم قیمت، مختلف ذائقوں اور آسان دستیابی کے باعث یہ مصنوعات نوجوانوں، بالخصوص کم عمر افراد کیلئے کشش کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے نکوٹین کی لت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق والدین کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ روایتی سگریٹ کے برعکس ویپ اور نکوٹین پاؤچز کے استعمال کی علامات باآسانی محسوس نہیں ہوتیں۔

سگریٹ کے دھوئیں اور بو کے ذریعے بچے کی سگریٹ نوشی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، تاہم ویپ یا نکوٹین پاؤچز کا استعمال نسبتاً خاموشی سے کیا جاسکتا ہے۔کراچی میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے حوالے سے اساتذہ کیلئے منعقدہ ایک آگاہی نشست کے دوران بھی یہ مسئلہ سامنے آیا، جہاں اساتذہ نے بتایا کہ ایک طالب علم سے ویپ برآمد کرکے اس کے والدین کو آگاہ کیا گیا تو والدین نے اسے صرف ذائقے دار مصنوعات قرار دیتے ہوئے سنجیدہ مسئلہ سمجھنے سے انکار کردیا۔

ماہرین کے مطابق فلیورڈ ہونے کا مطلب بے ضرر ہونا نہیں، کیونکہ ایسی مصنوعات میں نکوٹین موجود ہوسکتی ہے جو نوجوانوں کو اس کا عادی بنا سکتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ نکوٹین کی نئی مصنوعات کو صرف سگریٹ کے متبادل کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں، کیونکہ ایسے افراد جو پہلے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے، وہ بھی ویپ یا نکوٹین پاؤچز کے ذریعے نکوٹین استعمال کرنا شروع کرسکتے ہیں۔

نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنا عوامی صحت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں جامع تمباکو اور نکوٹین فری پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جس میں سگریٹ کے ساتھ ویپنگ مصنوعات، گرم تمباکو مصنوعات اور نکوٹین پاؤچز کو بھی شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں میں ویپنگ اور نکوٹین پاؤچز کے استعمال سے متعلق قومی سطح پر جامع تحقیق کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ نوجوان یہ مصنوعات کس حد تک استعمال کررہے ہیں، ان میں نکوٹین کی مقدار کتنی ہے اور سوشل میڈیا، آن لائن فروخت اور مصنوعات کی تشہیر ان کے رجحانات کو کس طرح متاثر کررہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کی کوششوں کو صرف سگریٹ تک محدود رکھنے کے بجائے نکوٹین کی ہر شکل سے بچاؤ تک وسعت دینا ہوگی، جبکہ نوجوانوں کو نئی مصنوعات کے نقصانات سے آگاہ کرنے کیلئے جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مؤثر آگاہی مہمات چلانا بھی ناگزیر ہے۔