نوجوانوں کی سٹنٹڈ گروتھ ایک منصوبے کے تحت کی گئی، مطیع اللہ جان کا تبصرہ

اس کا گلہ عمران خان ایکس رے لیکر تقریروں میں کرتا تھا، خود عمران خان نے کیا کہا کہ آرمی چیف باپ ہوتا ہے، جب اس باپ نے لات مار کر نکال دیا تو اس کو ماں یاد آگئی کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے؛ سینئر صحافی کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 13 اگست 2026 14:59

نوجوانوں کی سٹنٹڈ گروتھ ایک منصوبے کے تحت کی گئی، مطیع اللہ جان کا تبصرہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست 2026ء) سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے نوجوانوں کی سٹنٹڈ گروتھ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے ریاست اور عسکری قیادت سے متعلق ماضی کے بیانات پر تبصرہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے کہا کہ نوجوانوں کی سٹنٹڈ گروتھ ایک منصوبے کے تحت کی گئی ہے، جس کا شکوہ عمران خان اپنی تقریروں میں ایکس رے لے کر کیا کرتے تھے اور نوجوانوں کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے مسائل کی نشاندہی کرتے تھے۔

انہوں نے عمران خان کے ماضی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان خود یہ کہہ چکے ہیں کہ آرمی چیف باپ ہوتا ہے، مطیع اللہ جان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب اسی ’باپ‘ نے لات مار کر نکال دیا تو پھر انہیں ماں یاد آگئی اور ریاست کو ماں جیسا قرار دینے لگے۔

(جاری ہے)

مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو تیار کیا جا رہا ہے کہ یا تو بارڈرز پر مرنے کے لیے یا پھر حکمران اشرافیہ کے لیے کمپیوٹر آپریٹرز کی نوکری کرنے ان کی منشی گیری اور ان کی کلرکی کے لیے تیار ہوں، ان کے آمدن اور اخراجات کی دیکھ بھال کریں اور یوتھ کو یہ سکھایا جا رہا یے کہ اس معاشرے کے اندر زندہ رہنے کی اتنی اہمیت نہیں جتنے جان دے دینے کی اہمیت ہے، وہ کہتے ہیں اس جھنڈے کو لہرانے کی اہمیت نہیں بلکہ اس جھنڈے کو ڈنڈے کے ساتھ پکڑ کر لہرانے کی اہمیت ہے، جھنڈے کا فلسفہ کیا ہے، اس کی اہمیت اور تاریخ کیا ہے وہ نہیں سمجھایا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک کی سب سے بڑی منافقت یہ ہے کہ جنہیں سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرکے سیاست کرتے ہیں، جن نوجوانوں کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے، ان سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں حلف لیا جاتا ہے کہ وہ سیاست نہیں کریں گے، جنہیں سیاست نہیں کرنی چاہیے وہ سیاست کر رہے ہیں اور جنہیں کرنی چاہیے، ان پر پابندی ہے، اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا؟ اقتدار ایک ایسا نشہ ہے جس کے لیے یہ عوام کا مینڈیٹ بھی لوہے کی طرح چوری کر کے بیچ کے اپنا نشہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔