اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 اگست 2026ء) اگرچہ عراق کے کئی حصے آبنائے ہرمز سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی نے عام عراقی شہریوں کی زندگی بھی مشکل بنا دی ہے۔
گزشتہ تقریباً تین ماہ سے محمود ولید کو تنخواہ مسلسل تاخیر سے مل رہی ہے۔ 38 سالہ ٹیچر عراقی وزارت تعلیم کے ملازم ہیں، اور ان جیسے ہزاروں عراقی سرکاری ملازمین کو وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہیں۔
موصل سے تعلق رکھنے والے ولید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہمیں اب زیادہ سے زیادہ یقین ہو رہا ہے کہ ہمیں اخراجات کم کرنے اور ہنگامی حالات کے لیے کچھ رقم الگ رکھنے کی ضرورت ہے، کم از کم اس وقت تک جب حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ یہ صورتحال واقعی بے چینی اور خوف پیدا کرتی ہے۔
(جاری ہے)
‘‘
اگست کے آغاز میں تنخواہوں میں تاخیر کے خلاف کئی احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔
ملک بھر کی جامعات کے ملازمین اور وزارت بجلی کے کارکنوں نے بھی مظاہرے کیے۔عراق کے پاس تنخواہوں کے لیے رقم کیوں نہیں؟
عراق
کے قومی بجٹ کا تقریباً 85 سے 90 فیصد تک حصہ تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر منحصر ہے۔دوسری جانب عراق کا سرکاری شعبہ بہت بڑا اور مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کام کرنے کی عمر کے تقریباً تین کروڑ عراقیوں میں سے دو تہائی اپنی روزی کے لیے ریاست پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے ریاستی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور سماجی بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔ عراقی حکومت کو ہر ماہ ان ادائیگیوں کے لیے تقریباً 6.5 ارب ڈالر سے لے کر 8.2 ارب ڈالر تک درکار ہوتے ہیں۔ لیکن حالیہ عرصے میں یہ رقوم حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی صورتحال کے باعث حال ہی میں یہ افواہیں بھی پھیلیں کہ سرکاری ملازمین کو ہر ماہ کے بجائے ہر 45 دن بعد تنخواہیں دی جائیں گی، لیکن حکومت نے اس کی تردید کر دی تھی۔
عراق دوبارہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے؟
ڈی ڈبلیو سے بات کرنے والے کسی بھی سرکاری ملازم نے یہ نہیں کہا کہ اگر تنخواہوں میں دوبارہ تاخیر ہوئی تو وہ احتجاج میں شرکت کرے گا۔
برطانوی تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے ریسرچ فیلو حیدر الشاکری کے مطابق اس صورتحال سے فی الحال عراق کو عدم استحکام کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر تنخواہوں میں تاخیر جاری رہی، تو مجھے مزید احتجاج کی توقع ہے، لیکن ابتدا میں یہ احتجاج مختلف شعبوں تک محدود رہیں گے اور فوری طور پر ان کے 2019 سے 2021 کے دوران ہونے والی 'تشرین تحریک‘ جیسی ملک گیر تحریک میں تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔
‘‘تشرین تحریک میں ہزاروں نوجوانوں نے حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔
عراق کیا کر سکتا ہے؟
عراق
نے آبنائے ہرمز کے بحران کا حل متبادل راستوں کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔عراقی تیل کا ایک چھوٹا حصہ ترکی کی پائپ لائن کے ذریعے برآمد کیا جاتا ہے۔ کچھ تیل ٹرکوں کے ذریعے عراق سے باہر لے جایا جاتا ہے اور پھر شام کی بندرگاہوں پر بحری جہازوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے عراقی حکومت نے ایک طویل عرصے سے بند عراق-لبنان پائپ لائن کو دوبارہ فعال بنانے کا اعلان بھی کر دیا۔
تیل پر انحصار ختم کرنے کی ضرورت
ماہرین کے مطابق اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عراق کی نئی حکومت آخرکار حقیقت پسندانہ معاشی اصلاحات نافذ کرے۔
ان اصلاحات میں بدعنوانی میں کمی، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور تیل پر انحصار کم کرنا شامل ہونا چاہیے تاکہ سرکاری ملازمتوں کے علاوہ بھی عراقی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔
تاہم اصلاحات کے لیے بھی رقوم درکار ہوتی ہیں۔ معاشی مشاورتی ادارے عراقی ہورائزنز کے محققین کے مطابق تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سمت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔
مئی میں حکومت کے مجموعی اخراجات گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی کم ہو گئے۔ لیکن ان اخراجات میں تنخواہوں، پنشن اور سماجی تحفظ کے لیے مختص رقم کا حصہ 99 فیصد تھا۔
محققین کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ حکومت کے پاس دیگر ضروری کاموں کے لیے بہت کم رقوم بچتی ہیں۔
بحران اصلاحات کا موقع بھی بن سکتا ہے
چیٹم ہاؤس کے حیدر الشاکری کے مطابق ماضی میں بھی مالی بحرانوں نے عراقی حکومتوں کو اصلاحات پر مجبور کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ''جب تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہوتی ہے تو حکومتیں بدعنوانی کے خلاف کارروائی، غیر تیل آمدنی میں اضافہ اور نجی شعبے کی حمایت جیسے اقدامات پر بات کرنے کے لیے زیادہ تیار ہو جاتی ہیں۔
لیکن جیسے ہی تیل سے آمدنی دوبارہ بڑھنا شروع ہوتی ہے، اصلاحات کے لیے سیاسی ترغیبات کمزور پڑ جاتی ہیں۔‘‘الشاکری کے مطابق موجودہ بحران عراق میں اصلاحات کے لیے ایک نیا موقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ فوری معاشی دباؤ کم ہونے کے بعد بھی اصلاحات کا یہ موقع برقرار رہتا ہے یا نہیں؟
ادارت: مقبول ملک