یوم آزادی تب ہی منایا جاسکتا ہے جب ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ ہو

سابق وزیراعظم کو علاج اور ملاقاتوں کا آئینی قانونی حق میسر ہو، احتجاج کرنے اور آواز بلند کرنے کی اجازت ہو، خدا کرے! اگلے یوم آزادی پر آزاد ہونے کا احساس بھی ہو۔ اقرارالحسن

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 14 اگست 2026 19:09

یوم آزادی تب ہی منایا جاسکتا ہے جب ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ ہو
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 14 اگست 2026ء ) عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ یوم آزادی تب ہی منایا جاسکتا ہے جب ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ ہو۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس دن کو اس کی اصل روح کے مطابق تب ہی منایا جا سکتا ہے جب ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہ ہو، ملک کے سابق وزیراعظم کو علاج اور ملاقاتوں کا آئینی اور قانونی حق میسر ہو، ایک بڑی مذہبی جماعت کے دو راہنما دس مہینے سے پراسرار طور پر غائب نہ ہوں، جب بات کہنے کی آزادی ہو، احتجاج کرنے اور آواز بلند کرنے کی اجازت ہو۔

خدا کرے کہ اگلا یومِ آزادی مناتے ہوئے ہمیں صحیح معنوں میں آزاد ہونے کا احساس بھی ہو۔ انشاء اللہ، پاکستان زندہ باد، عوام راج پائندہ باد۔

(جاری ہے)

دوسری جانب رہنماء پی ٹی آئی شیر افضل خان مروت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں آج ہم یوم آزادی منا رہے ہیں، ایک ایسی یوم آزادی کہ سیاسی ورکر نظر بند، امت مسلمہ کا عظیم لیڈر عمران خان نظر بند، ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، ایسے پاکستان میں یوم آزادی منا رہے ہیں جہاں یوٹیوب ، ٹویٹر، فیس بک بند، انسٹاگرام بند، خواتین نظر بند، پی ٹی آئی نظر بند، جس ملک میں نیٹ چلانے کیلئے وی پی این درکار ہوں، روزگار کمانے کیلئے باہر جانا ہو، اس ملک میں آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے خان کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ پاکستانیوں ہماری بقاء اور پاکستان کی آزادی حقیقی آزادی کی منتظر ہے۔

عنقریب عمران خان سے ملاقات کروں گا، امید ہے کہ ساری غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نظر بند ہوں، سیاسی کارکن اور خواتین پابندیوں کا سامنا کر رہے ہوں، اور پی ٹی آئی سیاسی مشکلات و قدغنوں میں گھری ہو، تو ایسے حالات میں آزادی کا جشن ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کی بقا حقیقی آزادی میں مضمر ہے، اور ملک کی حقیقی ترقی و استحکام بھی اسی آزادی سے وابستہ ہے۔