ریڈکلف ایوارڈ کی صورت میں کی گئی تاریخی ناانصافی کشمیریوں کے عزم کو نہ توڑ سکی

پیر 17 اگست 2026 13:46

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) دی ریڈکلف ایوارڈ 17اگست1947،کشمیری عوام کیساتھ ناانصافی کا اقدام ہے، جس نے بھارتی افواج کے داخلے کی راہ ہموار کی ۔ تفصیلات کے مطابق 17 اگست1947 کو دی ریڈ کلف ایوارڈ جیسے ایک غیر منصفانہ عمل کے ذریعے کشمیریوں کے حق خودارادیت پر حملہ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

برطانوی وکیل سر سائرل ریڈکلف نے ایک فیصلے کے ذریعے ساڑھے 8 کروڑ سے زائد انسانوں کی تقدیر اور زندگی کو داؤ پر لگا دیا تھا، برطانوی وکیل سر سائرل ریڈکلف کو پنجاب اور بنگال کے ایک لاکھ 75ہزارمربع میل کی تقسیم کیلئے محض پانچ ہفتوں کا کم وقت دیا گیا ، قائد اعظم محمدعلی جناح نے بھی بنیادی اصولوں کے خلاف ریڈ کلف ایوارڈ کو گہری اور منظم سازش قرار دیا ، 8اگست کو مکمل ہونے والی مسلم اورغیر مسلم اکثریتی علاقوں کی تقسیم کوسوچے سمجھے منصوبے کے تحت لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے روکے رکھا ، سرحد بندی کے انتہائی عجلت میں کیے گئے ریڈ کلف ایوارڈ میں پاکستان کے حصے میں آنے والے فیروز پور ہیڈورکس پر بھی ڈاکا ڈالا گیا ، منظم سازش کے تحت جموں و کشمیر تک زمینی رسائی کیلئے مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور خصوصاً پٹھانکوٹ تحصیل کو بھی بھارت کے حوالے کر دیا گیا ، آج سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس ایک تبدیل شدہ لکیر کا خمیازہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرکے مظلوم عوام بھگت رہے ہیں، یہ تاریخی ناانصافی کشمیریوں کے عزم کو توڑ نہ سکی اور آج بھی وادی کے ہر کونے سے پاکستان سے الحاق کی صدا بلند ہوتی ہے۔