پاکستان میں بجٹ شفافیت میں نمایاں بہتری، بھارت اور بنگلادیش کو پیچھے چھوڑ دیا

بجٹ شفافیت میں ہونے والی بہتری مختلف شعبوں میں اصلاحات اور مالیاتی معلومات کی عوام تک بہتر رسائی کا نتیجہ ہے،وزارت خزانہ

منگل 18 اگست 2026 10:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) پاکستان میں بجٹ سازی اور مالیاتی معلومات کی شفافیت میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت کا اسکور دو سال کے دوران 30 سے بڑھ کر 45 پوائنٹس ہوگیا، جس کے بعد پاکستان بھارت، سری لنکا اور بنگلادیش سے آگے نکل گیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے بجٹ شفافیت کے حوالے سے عالمی اوسط کے برابر اسکور حاصل کیا ہے۔

اوپن بجٹ سروے 2025ء میں بھارت کا اسکور 44، سری لنکا کا 43، بنگلادیش کا 37 جبکہ چین کا اسکور 19 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔وزارت خزانہ نے کہاکہ بجٹ شفافیت میں ہونے والی بہتری مختلف شعبوں میں اصلاحات اور مالیاتی معلومات کی عوام تک بہتر رسائی کا نتیجہ ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں پاکستان کا اسکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہوگیا جبکہ منظور شدہ بجٹ کے اسکور میں بھی 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

وزارت خزانہ کے مطابق سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت سے بجٹ اور سرکاری مالی معاملات سے متعلق معلومات تک عوام کی رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شرکت کا اسکور بھی 15 سے بڑھ کر 22 پوائنٹس ہوگیا، جو عالمی اور ایشیا پیسیفک اوسط سے بھی بہتر ہے۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں زیادہ جامع معلومات کی فراہمی کو سراہا ہے۔

آمدن اور اخراجات سے متعلق معلومات کی دستیابی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بجٹ اور سالانہ اختتامی رپورٹس عوام کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی شفافیت میں بہتری سے پارلیمان اور عوام کو حکومتی آمدن، اخراجات اور مالی پالیسیوں سے متعلق بہتر معلومات میسر ہوں گی، جس سے حکومتی امور میں احتساب اور ادارہ جاتی ساکھ مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی مالیاتی شفافیت رپورٹ میں بھی پاکستان کی پیشرفت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بجٹ شفافیت میں بہتری نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافے بلکہ پاکستان کے ادارہ جاتی اعتبار اور مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے۔