بہاولپور، ہزارہ صوبوں کے قیام کیلئے آئینی ترمیمی بل آئندہ ماہ ستمبر میں پارلیمنٹ میں پیش ہوگا‘محمد علی درانی

حکمران جماعتیںاپنے وعدے کا پاس رکھیں ،ڈائیلاگ سے ہی سیاسی استحکام اور نئے صوبے بن سکتے ہیں بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ،یہ پیش رفت ڈائیلاگ کا نتیجہ ہے‘سابق وفاقی وزیر

منگل 18 اگست 2026 22:51

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ ستمبر میں بہاولپور اور ہزارہ صوبوں کے فوری قیام کے لئے آئینی ترمیمی بِل قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کیاجائے گا جس کا مسودہ تیار کرلیاگیا ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے، ڈائیلاگ سے ہی سیاسی استحکام آسکتا ہے اور صوبے بھی بن سکتے ہیں۔

لاہور پریس کلب میں سیاسی رہنما عمران ریاض کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے دیا دلایا کہ مسلم لیگ (ن) 29جنوری 2019ء کو بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرچکی ہے۔

(جاری ہے)

بہاولپور اور ہزارہ کے عوام جائز طورپر یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکمران جماعتیں، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت بلاتاخیر اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے اپنے وعدے کا پاس رکھیں گی۔

انہوں نے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بحث ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ میں نے یہ جدوجہد2008ء میں شروع کی تھی اور الحمداللہ آج 18سال بعد پوری قوم میں یہ عمومی اتفاق رائے ہوچکا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنائے جائیں ۔ یہ ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو انتظامی، معاشی اور سماجی مسائل کی دلدل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لئے جاری بحث میں ایک نمایاں پہلو یہ حقیقت ہے کہ بہاولپورصوبہ کی بحالی اور ہزارہ صوبہ کے قیام پر حکمران جماعتوں سمیت تمام سیاست دان متفق ہیں جبکہ یہ محسن نقوی فارمولا اور میاں عامر محمود کے ڈویژن والے فارمولے پر بھی پورا اترتے ہیں۔

بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ہزارہ صوبے کے قیام کے آئینی اور سیاسی تقاضے پورے ہوچکے ہیں۔ اِن دونوں صوبوں کا قیام بغیر کسی رکاوٹ کے فوری طورپر ممکن ہے۔ محمد علی درانی نے مطالبہ کیا کہ پہلے مرحلے میں بہاولپور صوبہ کو بحال اور ہزارہ صوبہ کو قائم کیاجائے ۔ یہ دونوں صوبے گورننس کا ایک نیا ماڈل بن کر سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ ان دونوں صوبوں کا قیام فوری طور پر پاکستان کی زرعی معیشت کی مضبوطی اور معاشی استحکام کے دروازے کھول دے گا۔

بہاولپورصوبہ پورے پاکستان کی فوڈ باسکٹ بنے گا جہاں چولستان کا64لاکھ ایکڑ رقبہ پاکستان کی تمام غذائی ضروریات کو پوری کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ پاکستان کی فوڈ سکیورٹی یقینی بنائے گا جو قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہزارہ صوبہ ہائیڈل پاور، معدنیات، پھلوں، سی پیک اور سیاحت کا مرکز بنے گا۔ اِن دو صوبوں کو مکمل بلدیاتی نظام کے ساتھ صوبے بنا کر ملک کے عوام کے سامنے شو کیس کیاجائے۔

انہوں نے کہاکہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اِن دونوں صوبوں میں نہ وڈیرے ہیں اور نہ ہی دہشت گرد۔ یہ دونوں صوبے گڈ گورننس اور پبلک امپاورمنٹ کی مثال بنیں گے۔ انشاء اللہ یہ دونوں صوبے وڈیروں سے پاک نوجوانوں کے صوبے بنیں گے۔ ایک سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ یہ پیش رفت ڈائیلاگ کا نتیجہ ہے ۔ ڈائیلاگ سے ہی سیاسی استحکام آسکتا ہے اور صوبے بھی بن سکتے ہیں۔