میر رضا کیس، اہلِ خانہ کا جوڈیشل کمیشن مسترد، جے آئی ٹی تشکیل کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

پیر 24 اگست 2026 13:32

میر رضا کیس، اہلِ خانہ کا جوڈیشل کمیشن مسترد، جے آئی ٹی تشکیل کیلئے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کے معاملے میں مقتول کے اہلِ خانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کیس کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی ہے۔مقتول کے اہلِ خانہ نے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں سندھ حکومت سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیاہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی ازسرنو تحقیقات ہوسکیں۔

(جاری ہے)

سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ اہلِ خانہ کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا، حکومت کی جانب سے فیصلے کی سرکاری کاپی اور کمیشن کے قواعد و ضوابط بھی خاندان کو فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی خط لکھا تھا، تاہم ان کے متعدد سوالات کا تاحال جواب نہیں دیا گیا۔وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن حقائق اور سفارشات سامنے لاسکتا ہے، تاہم اصل ضرورت تفتیش کی ہے، اس لیے کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیے جس میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شامل ہوں۔

جبران ناصر کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات کے پہلے دن سے ہی متعدد شکوک و شبہات موجود ہیں۔ جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر اہم شواہد سے متعلق سوالات اب تک جواب طلب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ کی جانب سے اٹھائے گئے 24 سوالات میں سے کسی ایک کا بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اہم شواہد مبینہ طور پر ضائع ہوئے تو اس معاملے کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے اور یہ بھی بتایا جائے کہ متعلقہ حکام کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔

آخری سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، جبکہ شو روم میں نصب دو کیمروں کی فوٹیجز بھی فراہم نہیں کی گئیں۔جبران ناصر نے مزید کہا کہ واقعے سے منسلک موٹر سائیکل اور آلٹو گاڑی کے حوالے سے بھی تاحال پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق تفتیشی ٹیم کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے تو اہلِ خانہ کو اس سے آگاہ کیا جائے، کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ پرانی تفتیشی ٹیم سے کسی قسم کی پوچھ گچھ ہوئی ہے یا نہیں۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ہوئی، جہاں تفتیشی افسر سراج لاشاری پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر نے کیس کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو رپورٹ 7 ستمبر تک جمع کرانے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران مدعی کے وکیل دانیال حسین نے تفتیشی افسر سے اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ مقتول کے موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔

ادھر کیس میں میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت میں بھی یکم ستمبر تک توسیع کردی گئی۔ عدالت میں محمد احمد کے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو تفتیش کے نام پر بار بار تھانے طلب کرکے ہراساں کیا جا رہا تھا، اسی لیے انہوں نے تحفظ کے لیے عبوری ضمانت حاصل کی۔جبران ناصر نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے محمد احمد کو گرفتاری کے لیے نہیں بلکہ تفتیش میں شامل کرنے کے لیے طلب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ محمد احمد اکثر میر رضا کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے واقعے کے اصل حقائق جاننے کے لیے اس کا شاملِ تفتیش ہونا ضروری ہے۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد محمد احمد کی عبوری ضمانت میں یکم ستمبر تک توسیع کردی اور اسے تفتیش میں پولیس سے مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک وہ شہر سے باہر نہیں جائے گا۔میر رضا کے اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے بجائے جے آئی ٹی کو ہی کیس کی تفتیش کے لیے مؤثر فورم سمجھتے ہیں۔